امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 172
ترجمہ:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کے ختم کا یہ مطلب ہے کہ اب کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا جسے خدا تعالیٰ شریعت دیگر لوگوں کی طرف مامور کرے۔نیز فرماتے ہیں:۔امتنع ان يكون بعده نبى مستقل بالتلقى“ (الخير الكثير حضرت شاہ ولی الله محدث دهلوی صفحه 80 مطبوعه 1352ھ بجنور) یعنی یہ امر متنع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مستقل با تلقی ہو۔حضرت شاہ صاحب یہ بھی تحریر فرماتے ہیں:۔"لان النبوة تتجزى ، وجزء منها باق بعد خاتم الانبياء (المسوى شرح الموطا باب رويا صالحه جزء من ستة و اربعين جزو من النبوة جلد2 صفحه 426 مطبع سلفيه مكة 1353ه از ولی الله شاه محدث دهلوی) یعنی نبوت کے کئی حصے ہیں اور اس کی ایک جزء ( یعنی غیر تشریعی نبوت) خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی ہے۔حدیث لانبی بعدی کی تشریح میں نواب نور الحسن صاحب فرماتے ہیں:۔لانبی بعدی کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔اقتراب الساعة صفحه 162 مطبوعه 1301ھ مطبع مفید عام) 15۔حضرت مولانا ابوالحسنات عبدالحی فرنگی محل (متوفی 1304ھ ) کا مشہور ارشاد ہے بعد آنحضرت کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرعی جدید ہونا البتہ منع ہے۔(دافع الوسواس في اثر ابن عباس صفحه 16 مطبع یوسفی فرنگی محل ـ طبع دوم) 172