امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 160 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 160

اس ضمن میں جو بات خاص طور پر قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ تمام اقوام اور تمام مذاہب میں آخری زمانہ میں آنے والے ایک مصلح کی پیشگوئی موجود ہے۔یہودی مسیح کے انتظار میں ہیں، عیسائی عیسی علیہ السلام کی آمد ثانی کے منتظر ہیں اور مسلمان مہدی کے منتظر ہیں۔بدھ لٹریچر میں بدھ کے دوبارہ ظہور کا ذکر ہے اور ہندوؤں کے ہاں کرشن جی کا دوبارہ ظہور متوقع ہے۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ تمام مذاہب کی بیان کردہ علامات کے مطابق مصلح منتظر کا وقت اور علامات ہمارے اس دور کی نشاندہی کرتے ہیں اور مختلف جہتوں سے اٹھتے ہوئے آثار گویا اس دور پر مرکوز ہوتے ہیں۔دوسرے مذاہب سے قطع نظر اسلام میں امام مہدی کا ظہور اور نزول حضرت عیسی علیہ السلام ایک متفقہ عقیدہ چلا آ رہا ہے۔مسیح اور مہدی کے بارہ میں جو عقائد سارے عالم اسلام کے مجموعی طور پر ہیں وہی عقائد جماعت احمدیہ کے ہیں۔اگر مرز اصاحب کی ذات کو درمیان سے نکال کر دیکھا جائے تو المسلمین آنے والے مسیح و مہدی کے بارہ میں وہی عقیدہ رکھتے ہیں اور آنے والے مسیح ومهدی وہی کچھ فرمائیں گے جو مرزا صاحب نے فرمایا ہے۔اپنی اس بات کی وضاحت کے لئے ہم اُمت مسلمہ کے مستند ترین لٹریچر سے چند حوالے پیش کرتے ہیں جن سے فاضل وکیل سرکار اور مشیران عدالت کے اٹھائے ہوئے بہت سے اشکال حل ہو جاتے ہیں۔کہا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے مختلف دعاوی کئے ہیں اور کہا ہے میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں اور اسی طرح سے مسیح و مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے مگر حقیقت وہی ہے جو حضرت امام جعفر صادق نے بیان فرمائی ہے کہ جب امام مہدی ظہور فرمائیں گے تو وہ یہی فرمائیں گے:۔”اے تمام لوگو! سن لو جو ابراہیم اور اسماعیل کو دیکھنا چاہے تو یا در کھے کہ وہ ابراہیم اور 160