امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 154
سے صلح کر سکتے ہیں۔لیکن ان لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔(پیغام صلح صفحه 21) 2۔”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں اعلیٰ درجہ کا جوانمر دنبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار اور رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمدمصطفی احمد مجتبے صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی۔وو (سراج منیر صفحه 80) 3۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا وہ لعل اور یا قوت اور زمر داور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی ، سید الانبیاء سید الا حیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحه 160-161 4۔” میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے۔ہزار ہزار در دو اور سلام اس پر یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا اس نے خدا سے انتہائی درجے پر محبت کی اور 154