امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 152
آجائیں گے تو ان کے مقابلے میں آپ کسی مولوی کی بات نہیں مانیں گے۔اس لحاظ سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کیا عقائد بیان کئے اور کیا وہ اسلام کے خلاف ہیں یا اُس کے عین مطابق ؟ یہ بھی کہا گیا کہ نعوذ باللہ مرزا صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے۔افسوس کہ مرزا صاحب جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے منظوم اور منثور کلام پر نظر نہیں ڈالی گئی جو آپ کے عشق اور محبت سے لبریز ہیں۔ہم اس جگہ مرزا صاحب کے اپنے الفاظ میں آپ کا اپنا مذہب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں آپ کی تحریرات میں سے چند ایک پیش کرتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب اپنے عقائد کے بارہ میں فرماتے ہیں :۔;" پیغمبریم عشاق فرقان بدین آمدیم و بدین بگذریم ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لَا إِله إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ الله ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں۔جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سید نا ومولینا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعے سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ کو پہنچ سکتا ہے اور ہم تہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے۔اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے۔152