امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 150 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 150

وو شیعوں کو اشتعال دلانے کیلئے رفاعی صاحب نے ” صد حسین است در گریبانم کو بار بار پیش کیا ہے۔حالانکہ اس سے حضرت امام حسین کی مظلومیت کے حوالے سے اپنی مظلومیت کو ظاہر کرنا مقصد ہے۔حضرت مرزا صاحب نے خالص دینی پس منظر میں دین اسلام کی بے بسی اور اپنی کیفیات کے ذکر میں یہ مصرعہ ارشاد فرمایا ہے۔مگر امام حسین کی مظلومیت اور کر بلا کا واقعہ عالم ادب وفصاحت و بلاغت میں بطور ضرب المثل کے بیان ہوتا ہے۔چنانچہ علامہ نوعی کا شعر ہے۔کر بلائے عشقم و لب تشنہ سر تا پائے من صدحسین کشته در ہر گوشہ صحرائے من حضرت امام حسین کی تو ہین کا تو کوئی احمدی سوچ بھی نہیں سکتا۔حضرت مرزا صاحب امام حسین کے مقام کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔حسین رضی اللہ عنہ طاہر ومظہر تھا اور بلاشبہ وہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیاوہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قد رمگر وہی جو ان میں سے ہیں۔دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی۔کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔150