امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 8 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 8

حوالے شامل تھے۔دورانِ بحث اصل کتب سے وہ حوالے عدالت میں پیش کئے گئے اور ان پر تفصیل سے بحث کی گئی ، فریقین کی بحث کم و بیش چودہ دن جاری رہی۔جب مقدمہ عدالت میں داخل کیا گیا تو اس وقت جماعت کے لئے حالات اتنے مخدوش ہو چکے تھے کہ خلیفہ وقت کے لئے پاکستان میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینا اور جماعت کی رہنمائی کرناممکن نہیں رہا تھا اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پاکستان سے ہجرت فرما چکے تھے۔مارشل لاء حکومت کے ارادے جماعت کے بارے میں نہایت خطر ناک تھے۔چنانچہ جب عدالت میں مقدمہ داخل کرنے کا خیال آیا تو بہت سے خطرات ، اندیشے اور بہت سے دباؤ ذہن پر تھے۔یہ بھی اندیشہ تھا کہ Ordinance XX کے بعد بڑی سرعت سے مزید قانون سازی بھی کی جائے گی۔اور یہ اندیشہ بھی تھا کہ ہماری درخواست کی سماعت میں ہو سکتا ہے کوئی رکاوٹیں بھی پیدا کی جائیں۔یہ خیال بھی تھا کہ ہو سکتا ہے کہ جو بھی درخواست داخل کرے اسے گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا جائے۔یہ طے تھا کہ راقم الحروف مقدمہ میں سائل ہوگا اور راقم الحروف ہی پر دوستوں نے بحث کے لئے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔لیکن ہمارے اندیشوں کے پیش نظر ضروری سمجھا گیا کہ ایک سے زائد سائل ہوں تا کہ ایک اگر گرفتار ہو جائے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے۔اس نقطہ نظر کے تحت برادرم مبشر لطیف احمد صاحب ایڈووکیٹ اور برادرم مرزا نصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو وکلاء میں سے بطور سائل کے شامل کیا گیا اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کو اس غرض سے بطور سائل کے شامل کیا گیا کہ وہ قرآن وسنت سے متعلق تحقیق و جستجو میں راقم کی راہنمائی کریں اور خود بطور سائل کے عدالت میں ان کی موجودگی کسی مرحلہ پر بھی قابلِ اعتراض نہ ٹھہرے۔تحقیق و جستجو کے دوران ہمیں مرکزی لائبریری کی سہولت میسر رہی اور ہم نے تحقیق وجستجو میں پاکستان کی بعض دوسری چیدہ چیدہ لائبریریوں سے بھی استفادہ کیا۔فیصل مسجد میں اسلامی 8