امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 132 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 132

ان تینوں روایات کو ابن قیم نے بغیر ان کی سند کی صحت کی تحقیق کے پیش کیا ہے اور کہا ہے۔شُهْرَةَ هَذِهِ الشُّرُوْطِ تُغْنِى عَنْ أَسْنَادِ هَا۔یعنی ان شرائط کی شہرت انہیں صحیح سند سے بے نیاز کر دیتی ہے۔یہ الفاظ علاوہ اس کے کہ اسناد کے بارے میں گہری چھان بین سے انحراف کے مظہر ہیں، سلفی مدرسہ خیال کے اس طریق سے انتہائی بعید ہیں جو روایات کے متن او رسند کے متعلق گہری تحقیق کا قائل ہے اور جو مندرجہ ذیل اصل پر پختہ یقین رکھتا ہے۔مَا كُلُّ مَاصَحْ سَنَداصَحٌ مَتْنا وَلَا كُلُّ مَاصَعٌ مَتْنَا صَحْ سَنَدًا یعنی : ہر وہ روایت جو سند کے لحاظ سے صحیح ہو ضروری نہیں کہ وہ متن کے لحاظ سے بھی صحیح ہو اور نہ ہی ہر وہ روایت جو متن کے لحاظ سے صحیح ہوسند کے لحاظ سے بھی صحیح ہوتی ہے۔علاوہ ازیں ان روایات میں نہ صرف اُس شخصیت کے بارے میں اختلاف ہے جس نے یہ شرائط طے کیں کہ وہ غالب ہے یا مغلوب؟ بلکہ خود تحریر شدہ متن میں بھی اختلاف ہے۔مثلاً پہلی روایت ان دو اضافی شرطوں پر مشتمل ہے جنہیں حضرت عمر نے خود بعد میں شامل کیا تھا ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ مسلمانوں کے ذریعے قیدی بنائی گئی عورتوں کو ڈمی نہیں خرید سکتے اور دوسری یہ کہ اگر وہ کسی مسلمان کو ماریں تو ان سے معاہدہ ختم کر دیا جائے۔(احکام اھل الذمة جلد دوم صفحه 662,661) اسی طرح ان روایات کے متن میں بھی بعض ایسی عبارتیں ہیں جو اشکال پیدا کرتی ہیں جیسے عبدالرحمن بن غنم نے شرائط نصاری پر مشتمل جو خط حضرت عمرؓ کو ارسال کیا تو اس میں اس شہر کا قطعاذ کر نہیں کیا جس میں معاہدہ طے پایا بلکہ اس نے اس خط میں اس بارہ میں ایک بالکل ہی مبہم سی عبارت لکھ دی جو مندرجہ ذیل ہے:۔هذَا كِتَابٌ لِعُمَرَ مِنْ نَصَارَى مَدِينَةِ كَذَاوَ كَذَا (احکام اہل الذمۃ جلد دوم صفحہ 662) 132