امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 129 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 129

نہیں ہوا تھا۔ظفر اللہ خان کے کان میں کہا گیا ہوگا یہ باتیں ایک فریق کی زبان سے بجتی ہیں۔مگر غیر جانبدار مشیر کو زیب نہیں دیتی تھیں۔جو بحث معاہدات کی پابندی کی ہم نے اُٹھائی ہے اس کے لئے تفصیلی حالات واقعات پر ایک دلیل قائم کی گئی ہے۔ہماری نظر میں 1974ء کی دستوری ترمیم نے بھی اس معاہدہ کو ختم نہیں کیا کیونکہ بنیادی حقوق جو قرار داد مقاصد میں متعین کئے گئے تھے وہ پاکستان میں بننے والے ہر دستور میں ہی نہیں بلکہ آج کے مارشل لاء کے زمانہ میں بھی بدستور قائم ہیں۔مولا ناحسین احمد مدنی ایک وفد لے کر قائد اعظم کے پاس گئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ احمدیوں کو مسلم لیگ میں شامل نہ کریں لیکن قائد اعظم نے ان کا مطالبہ رد کر دیا۔جہاں تک اقلیت کا سوال ہے، میں اقلیت اور اکثریت کی بحث میں نہیں پڑتا ، تاریخ عالم میں اقلتیں اکثریتوں میں بدلتی رہی ہیں۔پس اقلیت کا اکثریت میں بدلنا ایک Ifreversible حقیقت ہے۔یعنی جب اکثریت ظلم میں بڑھ جاتی ہے تو اکثریت اقلیت میں بدل جاتی ہے۔آزادی مذہب اور حریت فکر پر پابندی نہیں ہے۔جہاں تک کفر اور ایمان کا تعلق ہے اپنی زبان سے کافر ہونا یا ارتداد کا اعلان کرنا اور بات ہے اور کسی کو کا فرکہ دینا اسے مرتد کے فتوے سے نواز نا اور بات ہے۔اگر کسی کے کافر کہنے سے کوئی کافر ہو جاتا ہے تو پھر حضرت امام حسین کو بھی کا فر قرار دیا گیا تھا اور اس بات پر انہیں شہید کیا گیا۔قانون کسی کو بھی یہ حق نہیں دیتا کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔ہمیں کافر ہونے کا سر ٹیفکیٹ دینے والے خود یہ کہتے ہوئے کٹہرے سے گزر گئے کہ مجھے اپنے مسلمان ہونے کے لئے کسی کے سر ٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ہم کسی سے اپنے مسلمان ہونے کا سر ٹیفکیٹ طلب نہیں کرتے محض اپنا شرعی حق مانگتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیا۔129