امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 123
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں قائد اعظم نے فرمایا، ملک میں تمام شہری ایک ہیں اور اب نہ ہندو ہندور ہیں گے اور نہ مسلمان مسلمان بلکہ سب سیاسی طور پر ایک قوم میں ڈھل جائیں گے اور سب مسلم اور غیر مسلم آزاد ہیں کہ اپنے معابد، مساجد، گر جاؤں وغیرہ میں جائیں اور آزادانہ اپنی مذہبی رسومات بجالائیں۔(Fundamental law of pakistan by A۔KBrohi P۔937۔938,1958) چوہدری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم پاکستان اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں فرماتے ہیں کہ حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ عقیدہ کی آزادی کی ضمانت دے۔پاکستان فوجی فتح کے ذریعہ سے وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ یہ ایک Negotiated Agrement کے ذریعہ وجود میں آیا ہے۔(صفحہ 239-240) اور ہم سب شہری اس میں برابر کے شہری ہیں اور ان کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہوگی اسی کتاب کے صفحہ 386 پر قائد اعظم کا یہ ارشاد درج ہے کہ پاکستان اسلام کے سوشل جسٹس کے اصولوں پر قائم ہو گا۔اس میں تھیا کر یہی ہر گز نہیں ہوگی بلکہ ہر شہری کو حکومت میں حصہ حاصل ہوگا۔یہ باتیں اس قرار داد مقاصد میں بھی دہرائی گئی ہیں جو بعد میں آئین کا حصہ بنا۔اس قرار داد مقاصد کی تشریح کرتے ہوئے مسٹر لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ہر طرح سے ضمانت دی جائے گی۔پاکستان کی حکومت Technical Sense میں Theocracy نہیں ہوگی۔مسلمانوں نے کبھی اقلیتوں پر جبر نہیں کیا۔اگر ہندوستان کے مسلمان بادشاہ اقلیتوں پر جبر کرتے تو ہندوستان میں ایک بھی ہندو باقی نہ رہتا۔یہ اسلام کی رواداری ہے۔لیاقت علی خان صاحب نے کہا ہم کسی غیر مسلم کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کریں گے۔اور کسی بھی طرح سے اس کے مذہب یا ثقافت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔123