امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 115 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 115

کہ وہ اس ایک وجہ کی طرف مائل ہو۔(لسان الحكام صفحه414) ہماری تو یہی ایک وجہ اسلام کے لئے کافی تھی کہ ووٹ کے حق سے محروم ہو کر اور جانیں قربان کر کے اور مال لٹوا کر پھر بھی کہا کہ ہم مسلمان ہیں تو کیا یہ باتیں ہمارے اسلام کے لئے کافی نہ سمجھی جائیں گی۔ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ بعض کفر ایسے ہیں جو ملت سے نہیں نکالتے جن کی وجہ سے انسان ملت سے خارج نہیں ہوتا۔(کتاب الايمان ابن تیمیه صفحه 171) مولانا مودودی صاحب نے Rigth to Profess کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص بنیادی حقوق پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ورنہ یہ اللہ اور اللہ کے ذمہ سے دغا بازی کے مترادف ہے۔حکومت وقت کو شہریوں کے بنیادی حقوق کی ذمہ داری نیابتہ حاصل ہوتی ہے اگر وہ کسی دوسرے طریقے سے حقوق چھینے تو یہ دراصل خدا سے دغا بازی ہے۔معاہدات دستوری سفارشات صفحه 153) زیر نظر آرڈینینس اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ وہ پاکستانی قوم اور افراد کے درمیان معاہدات کے منافی ہے۔معاہدات کے مضمون میں ہم ان معاہدوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے حکمرانوں یا پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ہیں۔ان کو توڑا نہیں جاسکتا۔اس ملک کی تخلیق کے وقت جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم پاکستان بنے نہیں دیں گے، وہ بھی اس ملک کے شہری ہیں لیکن ہم تو ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ جد و جہد آزادی میں ساتھ ساتھ رہے اور یہ ہمارا دعا ہی نہیں بلکہ دوستوں دشمنوں سب نے مانا ہے یہاں تک کہ تاریخ بھی گواہ ہے اس لئے ہمیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔بندوں اور بندوں کے درمیان معاہدات کے علاوہ حکومتوں اور حکومتوں کے مابین معاہدہ ہوتا ہے 115