امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 106
ایسے ذرائع جو اپنی ذات میں جائز ہوں اس صورت میں منع کر دیئے جائیں گے جب وہ کسی نا جائز یا حرام مقصد کی طرف بالآ خر لے جانے کا باعث ہوں۔(اعلام الموقعين جلد دوم حصه پنجم صفحه 153 - باب ذرائع مة مقاصد کے تابع ھیں۔مطبوعه 1909ء) (امام ابن قیم ترجمہ خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی۔مکتبہ قدوسیہ غزنی سٹریٹ اُردو بازار لاہور اشاعت 1999ء) سدّ ذریعہ کا اصول اذان وغیرہ معاملات مندرجہ آرڈ مینس پر اطلاق نہیں پاتا۔جتنی مثالیں ست ذریعہ کی بیان کی گئی ہیں اس میں کسی تعبدی امر کو سید ذریعہ کے اصول پر منع نہیں کیا گیا۔سید ذریعہ کے اصول پر اس عدالت نے بھی شریعت پٹیشن 3/1983-K کے پیراگراف 144 143 میں روشنی ڈالی ہے۔جس سے یہ بات مزید ظاہر ہوتی ہے کہ سید ذریعہ کا اصول ان ذرائع کو مسدوکرنے کے لئے استعمال ہوسکتا ہے جو کسی فعل حرام پر منتج ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں بعض دیگر اصول بھی قانون سازی کے سلسلہ میں اس عدالت نے بیان کئے ہیں جو یہ ہیں :۔1 - دَفْعُ الحَرَج غیر ضروری تنگی کا دور کرنا -2 -3 -4 رَفْعُ الْمَشَقَّة مشقت کو دور کرنا سہولت پیدا کرنا قلة التكليف تکلیف تشریعی کا بار کم سے کم عائد کرنا ایک پہلو اضطراری قانون سازی کا بھی بیان کیا گیا ہے یعنی بالفاظ دیگر دفع ضرر کے لئے قانون سازی۔اس بارہ میں قرآن کریم کی دو مختلف آیات سے اصول مستنبط ہوتے ہیں۔1 - غَيْرَ بَاغِ وَلَاعَادٍ -2 (البقره:173) غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لايم (المائده : 3) 106