امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 105
بنیادی حقوق سب کے لئے برابر ہوتے ہیں مسلم اور غیر مسلم کے بنیادی حقوق میں کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اگر صرف اکثریت کی بنیاد پر بنیادی حقوق نافذ کئے جائیں تو پھر منوشاستر کے قانون کا نفاذ ہندوستان میں بھی جائز ٹھہرے گا۔جیسا کہ 1953 ء کی انکوائری میں ایک بزرگ نے بلا تامل یہ فرما دیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں سے چوڑھوں، چماروں اور شودروں جیسا سلوک ہو تو ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔(Report of the court of inquiry, page 228) یہ صورت حال وسیع تر اسلامی مفاد اور مصلحت عامہ کے خلاف ہے۔مصلحت عامہ کے ضمن میں ابن تیمیہ اور ابن قیم جوزیہ نے سد ذریعہ کا جو اصول قائم کیا ہے اس اصول کی بھی کچھ وضاحت ضروری ہے۔سد ذریعہ کا یہ عام مفہوم کہ مباح چیزوں کو مصلحت کی خاطر روکا جا سکتا ہے بعینہ اس طرح سے درست نہیں۔ست ذریعہ کی تعریف یہ ہے کہ کسی حرام مقصد کے ذرائع ممنوع قرار دے دیئے جائیں۔اگر چہ وہ ذرائع اپنی ذات میں حرام نہ ہوں بلکہ مباح اور جائز ہوں۔جائز مقصد کے جائز ذرائع کو روکناست ذریعہ نہیں کہلا تا۔بلکہ جائز مقاصد کے لئے ذرائع کوکھولنا فتح ذریعہ کہلا سکتا ہے۔امام ابن تیمیه مصنفه ابو زهره صفحه 691-692) ابن قیم کی کتاب اعلام الموقعین میں ست ذریعہ کی جو مثالیں دی گئی ہیں ان میں سے پندرہویں مثال کا حوالہ دیا گیا تھا۔جس میں داڑھی کو خضاب نہ لگانے کے مباح فعل کو بھی منع کر دیا گیا تا کہ یہود سے مشابہت نہ ہو، مگر اس کی وجہ بھی ساتھ ہی بیان کر دی گئی۔یعنی یہ کہ وہ لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔وہ تشابہ کی وجہ سے کوتاہی تربیت کا شکار نہ ہو جائیں۔گویا کوتاہی تربیت کے ذریعہ کو روکنے کے لئے ایک جائز امر کو ممنوع قرار دیا گیا۔جو دوسری مثالیں دی گئیں ہیں ان سے بھی قدر مشترک کے طور پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 105