امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 103 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 103

قربان نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک اذان کا سوال ہے، یہ بات واضح ہے کہ اذان احسن قول ہے اور شعائر دینی میں سے ہے۔اس کی عظمت واحترام کے اپنے تقاضے ہیں۔اس کی عظمت منصوص ہے اس لئے اس کی عظمت کی بقاء زیادہ ضروری ہے۔مصلحت عامہ کے اصول پر بھی اذان کو قائم رکھنے کی مصلحت اولیٰ ہے جیسا کہ سورۃ الجمعہ کی آیت میں دنیاوی مفادات اور مصالح چھوڑ کر بیع وشراء کو ترک کر کے اذان پر کان دھرنے کا حکم ہے۔عدالتی مشیر پروفیسر اشرف صاحب نے اس آیت سے اذان کے تعبدی امر ہونے کا استدلال فرمایا ہے۔اسی استدلال سے قوی تر استدلال یہ ہو سکتا تھا کہ تعبدی امور میں انسان کی حقیقی مصلحت ہے لہذا دوسرے معاملات میں تعزیر نافذ کرنے کی حیثیت کچھ بھی ہو ، اذان میں تعزیر نافذ کرنا مصلحت عامہ کے اصول کے منافی ہے اور لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرار" کے اصول کے بھی خلاف۔لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَار" کے اصول کا جہاں تک تعلق ہے اذان کے بند ہو جانے سے ایک دینی اور تعبدی ضر ر واقع ہوتا ہے اور اذان کے دینے سے کوئی حقیقی یا معنوی ضرر واقع نہیں ہوتا ہے۔جس ضرر کا احتمال پیدا ہوتا ہے وہ ضر ر اس شورش میں مبنی ہے جو ایک طبقہ کی طرف سے متوقع ہو سکتی ہے۔لہذا ضر ر کامل اذان نہیں ، شورش پسند ہیں اس لئے "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرار“ کا اصول بھی آرڈینینس میں زیر بحث معاملات پر اطلاق نہیں پاتا۔تعبدی امور کے بارہ میں ایک پہلو ہنوز وضاحت طلب ہے وہ امور جو اسلام کے تعبدی امور ہیں وہی جماعت احمدیہ کے بھی تعبدی امور ہیں اور یہ بات خود دستور کی ترمیم کے اندر مضمر ہے۔اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی چونکہ اسلام کے تمام تعبدی امور نجات اور فلاح کا باعث ہیں ان افعال کا بجالا نافی نفسہ نیک اور مستحسن اور باعث ثواب ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت حکیم بن حزام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے 103