امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 97 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 97

وسنت کو سمجھنے والے ہوں۔خلافت راشدہ میں تھے بعد میں کوئی تھے، کوئی نہیں تھے۔بعض کے بارے میں تو یہ بھی فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ وہ مومن بھی تھے یا نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اولی الامر قاضی سے رابطہ کرتے تھے اور فردِ واحد سے اپنی مرضی کا فیصلہ لیتے تھے۔قاضی شریح نے کیا کیا؟ یہ سب کو معلوم ہے۔تعزیر کی تعریف کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل باتیں سامنے آئیں :۔حاکم وقت تا دیباً کسی ایسے جرم کے لئے سزا مقرر کر سکتا ہے جس کے بارہ میں اسلامی (التشريع الجنائی از عبدالقادر عوده) شرع میں سزا مقرر نہ ہو۔(فلسفة التشريع الاسلامی“ ( اردو) صفحه 173 از ڈاکٹر صبحی صافی) شریعت نے ان افعال کی نشاندہی کر دی ہے، وہ معصیت میں شمار ہوتے ہیں۔تعزیر اس معصیت پر ہے جس کی حرمت پر نص موجود ہو۔قاضی کسی ایسے فعل پر سزا نہیں دے سکتا جسے شرع نے ناجائز قرار نہ دیا ہو۔تعزیر کے سلسلہ میں بھی یہ بحث اُٹھائی گئی کہ مفادِ عامہ میں تعز یر قائم تو کی جاسکتی ہے لیکن یہ بھی یک طرفہ نہیں بلکہ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جہاں نقصان پہنچتا ہے ،صرف اسی کی تلافی مقصود نہیں بلکہ نقصان پہنچانابھی معصیت میں شامل ہے۔اگر کوئی کہتا ہے کہ اذان پر اس لئے پابندی لگادی گئی کہ لَا ضَرَر کی رُو سے لوگوں کی اس سے دل آزاری ہوتی ہے تو دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اذان بند کرنے سے جن لوگوں کی عبادت میں خلل ڈالا گیا ہے اور ان کی عبادت کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کے ازالہ کی کیا صورت ہے۔خدا کی عبادت کی طرف بلانے سے روکنا دل آزاری کے فرضی مفروضہ سے کہیں زیادہ بڑی معصیت ہے۔قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے میزان قرار دیا ہے۔اس نے احکام کے ذریعہ توازن پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے اور یہ اصول مقرر فرمایا ہے کہ خیر وشر کی قدریں نہیں بدلیں گی۔اولی الام حدود کو بدل نہیں سکتا۔ان میں توازن پیدا کرنے کے لئے حکم دے سکتا ہے لیکن 97