امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 92
کس بات کی ، ہر وہ قول جس کی دلیل نہیں ہے باطل ہے اس سلسلے میں ” معارف القرآن جلد 6 صفحہ 175-176 ، کشاف، فی ظلال القرآن تفسیر کبیر رازی، المراغی کے حوالے بڑے واضح ہیں۔ان مفسرین کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ مدعی کا دعوی نفی ہے یا اثبات ہے۔اس کے لئے اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اس پر دلیل لائے محض تقلید کی راہ سے نہ اڑار ہے۔اس ضمن میں ” نقوش رسول نمبر جلد 3 کے مضمون نگار محمد مظہر الدین صدیقی نے انسانیت اسلام سے پہلے“ کے عنوان سے بڑی پایہ کی بات اپنے مضمون میں کہی ہے۔کہ اگر کسی شخص کو وحی یا الہام ہوتو اپنی وحی یا الہام کی اس کے سوا اور کوئی دلیل نہیں دے سکتا کہ میں خود اس کا شاہد ہوں لیکن قرآن کریم جو وحی کا سب سے بڑا مجموعہ ہے نہ صرف اپنی وحی کی صداقت کی دلیل دیتا ہے بلکہ اس کے برعکس مخالفوں سے دلیل طلب کرتا ہے۔اسلام ایک علمی مذہب ہے وہ انفس و آفاق کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اسلام کی حقانیت ثابت کرتا ہے نہ صرف خود تبلیغ کرتا ہے بلکہ دوسروں کی تبلیغ کا حق بھی تسلیم کرتا ہے۔مومن حسین وقتیح دونوں قسم کی باتوں کو سنتا ہے اور پھر اچھی بات کو قبول کر لیتا ہے اور بری باتوں کو بھی تو جہ سے سنتا ہے تا کہ پھر اچھی طرح رڈ کر سکے اور کسی قسم کی بات کو سننے سے نفرت نہیں کرتا، ہاں اختیار کرتے وقت اپنی تحقیق سے کام لیتا ہے ان باتوں میں توحید و کفر، حق و باطل کی باتیں سبھی کچھ شامل ہے اور مسلمان کی تبلیغ کا لازمی حصہ یہ ہے کہ وہ غیر مسلم کی تبلیغ بھی سنے گا اس کے بغیر آپ اپنی بات کر ہی نہیں سکتے۔یہ روح اسلام ہے اور اسلام کا تبلیغی نظام اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ غیر مسلموں کو بھی اسی طرح تبلیغ کا حق حاصل ہے اس لئے قرآن کریم بار بار کہتا ہے ھا تو ابرھانکم عبدالقادر عودہ نے اس آیت سے استنباط کیا ہے کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے ہر شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو عقیدہ چاہے اختیار کرے اور شریعت نے صرف عقیدہ کی آزادی کا اعلان ہی نہیں 92