امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 91
ملائکہ سچ مچ خدا کی بیٹیاں ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی عقلی دلیل نہیں تو نقلی دلیل پیش کرو۔(تفسیر روح البیان جلد 23 صفحه492 از شیخ اسماعیل حقی البروسوی 1331ھ ) پانچویں آیت سورۃ ” قصص‘ کی 76 ویں آیت ہے۔مدارک التنزیل میں لکھا ہے کہ قیامت کے روز مشرکین سے کہا جائے گا کہ اپنے شرک پر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو لاؤ۔گویا شرک کے اثبات کے لئے بھی دلیل (مدارک التنزيل المجلد الثاني صفحه 663 بيروت) طلب کی گئی ہے۔چھٹی آیت سورۃ نمل کی آیت 65 ہے۔روح البیان جلد 6 صفحہ 364 مطبوعہ 1331ھ قل هاتوا برهانكم کہ کر دلائل ہی سے نہایت مضبوط دلیل مانگی گئی ہے کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہو سکتا ہے۔تفسیر فی ظلال القرآن جز ء20 صفحہ 16 بیروت، المراغی جزء13 مطبوعہ مصر صفحہ 52 ،25 ضیاء القرآن جلد سوم صفحہ 456 زیر آیت سورۃ نمل آیت 77 اور شیعہ مسلک کی تفسیر کی کتاب عمدة البیان از سید عمار علی جلد 2 صفحہ 199-200 میں ہے کہ اسلام نظریات اور معتقدات پر ہی مشتمل نہیں بلکہ حجت اور دلیل کے ساتھ غالب آیا ہے کیونکہ اس نے عقل و فکر کو خطاب کیا ہے اور نظام اقوام کو پیش کیا ہے تا کہ یقین اور بصیرت کے ساتھ اس طرف لایا جائے۔تفسیر ضیاء القران نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے تو پھر اس کا شریک ٹھہرانا کتنی بڑی حماقت ہے، بایں ہمہ کہا ہے کہ اس کے خلاف دلیل ہو تو اس سلسلہ میں تمہیں اذنِ عام ہے۔بیشک پیش کرو۔اسی طرح ہمیں بھی اپنے دلائل کی صداقت پیش کرنے کا اذنِ عام ہے۔ہمیں کوئی دلیل پیش کرنے سے روکا نہیں جانا چاہئے۔ساتویں آیت سورۃ انبیاء : 25۔آٹھویں آیت سورۃ بقرہ:18 کے متعلق اولین اور آخرین کے دور کے مفسرین ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ جب کہ برہان پر فیصلہ ہوتا ہے تو تقلید 91