امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 89
اصرار کرتے رہتے ہیں اگر چہ ان کے باپ دادا عقل و فہم سے عاری ہی کیوں نہ ہوں۔قرآن کریم اپنی صداقت کے دلائل دیتا ہے اور تبلیغ کا حق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اور اصولاً تقلیدی روح کو توڑنا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے جو طریقے بتاتا ہے وہ سب سے پہلے سورۃ نحل کے آخری رکوع کی آیات سے ثابت ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُدْعُ إِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل:125) ترجمہ:۔کہ حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت الی اللہ دو اور مد مقابل سے مجادلہ اور بحث بھی احسن طریق سے کرو۔مدارک التنزیل از امام نسفی جو حنفی عقائد کی ایک مستند کتاب ہے جلد 2 صفحہ 233 مطبوعہ بیروت میں اس آیت کی تفسیر میں واضح کیا ہے کہ حکمت اور موعظہ حسنہ کیا چیز ہے یعنی اس رنگ میں دلائل پیش کرنا کہ حق واضح اور شبہ زائل ہو جاتا ہے۔نصیحت ، تبشیر وانذار اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہوتی ہے۔تفسیر کبیر رازی جلد 20 صفحہ 138 ایڈیشن دوم طہران اور فی ظلال القرآن جلد 14 صفحہ 110 ایڈیشن چہارم مطبوعہ بیروت سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم قواعد اور اصول کے ذریعہ مناظرہ اور بحث مباحثہ اور دعوت الی اللہ کے وسائل اور طریقے متعین کرتا ہے۔تبلیغ خدا اور خدا کے دین کی طرف بلانا ہے یہ وہ فرض ہے جس کی ادائیگی ضروری ہے۔پیر کرم شاہ صاحب ضیاء القرآن میں لکھتے ہیں کہ اسلام کی نشر و اشاعت کا انحصار تبلیغ پر ہے۔سورۃ انفال آیت 43 ( يحيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ ) اگر چہ جنگ بدر کے موقعہ پر نازل ہوئی تھی لیکن اس میں واقعات کی رو سے بتایا گیا ہے کہ یہ حالات اس لئے پیدا کئے جار ہے 89