امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 88
میں زمین و آسمان کی تخلیق۔دن رات کا آگے پیچھے ہونا۔ہواؤں کا چلنا اور اس قسم کی دوسری چیزوں کی پیدائش کا ذکر کے کہا ، ان کو دیکھو کتنی خوبصورتی اور کیسا عمدہ تو ازن ہے، اگر خدا دو ہوتے تو کائنات میں ہم آہنگی نہ ہوتی۔یہ ایک ایسی معقلی دلیل ہے جو آفاق سے تعلق رکھتی ہے اس کے برعکس انفسی دلیل کے طور پر انسان کو پیش کیا ہے کہ اس کی تخلیق پر غور کرو۔اس کی زندگی کے مختلف مراحل پر نظر ڈالو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ایک خالق حقیقی ہے جس نے انسان کو بنایا۔کیا پھر تم خدائے واحد کا انکار کرو گے؟ جہاں تک نقلی دلائل کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا سِيرُوا فِي الْأَرْضِ اور پھر قصص الانبیاء وغیرہ بیان کر کے فرما یا لِنتَبتَ بِهِ فُؤَادَكَ (الفرقان: 32) یہ ہم اس لئے بیان کرتے ہیں تا کہ اس سے تمہارا اپنے خالق حقیقی پر ایمان مضبوط ہو۔جب یہ ساری باتیں ہو چکتی ہیں یعنی عقلی دلائل اور نقلی دلائل آجاتے ہیں تو قرآن کہتا ہے هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صدِقِينَ (البقرة :112) کہ کافر سے دلیل مانگو اس لئے کہ لِيَهْلِكَ مَنَ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ ويَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (الانفال:42) کی رو سے ہلاک وہی ہے جو دلیل سے ہلاک ہو اور زندہ وہی ہے جو دلیل سے زندہ رہے۔تبلیغ امر معروف ہے، پیغام حق پہنچانے کے لئے دلیل دینی پڑے گی اور تبلیغ کی روح یہ ہے کہ لوگوں کو دلیل سے قائل کیا جائے۔کیونکہ جب لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کا حکم ہے تو پھر انفسی اور آفاقی دلائل کی طرف توجہ دلا کر ہی بات مکمل ہوتی ہے۔قرآن کریم میں (1) سورۃ بقرہ: آیت 112، (2) المائدہ :105، (3) الشعراء:71 تا75، (4) الزخرف :21 تا 25 کے مفہوم کو مجموعی طور پر سامنے رکھا جائے تو سنت اللہ یہی نظر آتی ہے کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نازل ہوئی اور خدا کے رسول نے لوگوں کو پیغام حق پہنچایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ہمارے باپ دادا کا طریق کافی ہے۔وہ اسی پر 88