امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 3 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 3

ایک فرض ، ایک قرض 1974ء کی دوسری آئینی ترمیم کے بعد پاکستان میں جماعت احمد یہ ایک ابتلاء کے دور سے گزری ہے۔اس دوران ملکی قانون کو احمدیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔قانون ایسے بنادئے گئے تھے جن کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ افرادِ جماعت کو بہت سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔جنرل ضیاء الحق اسلام کو سیاسی عزائم کے لئے استعمال کر رہے تھے اور اس غرض کے لئے عدالتوں کے اختیارات پر بھی ضرب لگا رہے تھے۔ایک مارشل لاء ترمیم کے ذریعہ آئین تک کو بدل ڈالا تھا۔آئینی ترمیم کے ذریعہ وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی تھی جس کا دائرہ اختیار یہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ قرآن وسنت سے متصادم قوانین کو کالعدم قرار دے اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ ملکی قانون کو قرآن وسنت کے پیمانے پر پرکھنے کے لئے وفاقی شرعی عدالت قائم کی جارہی ہے اور یہ گو یا نفاذ اسلام کی طرف ایک قدم تھا۔آئینی اور قانونی معاملات پر نظر رکھنے والوں پر یہ بات واضح تھی کہ ایک متوازی نظام قائم کر کے دراصل اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کرنا مقصود تھا۔1984ء میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی غیر قانونی آمریت کو سہارا دینے کے لئے مذہبی انتہا پسندوں کا سہارا لیا۔اس سلسلہ میں 1984 ء کا آرڈ مینسXX جسے امتناع قادیانیت آرڈینینس کہا گیا ہے، نافذ کیا گیا۔اس قانون کے تحت مسجد کو مسجد کہنا اور اذان دینا قابلِ تعزیر جرائم ٹھہرائے گئے تھے۔احمدیوں کے لئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر بھی قید کی سزا 3