امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 82
قرار نہیں دیتے۔قرآن میں ہے وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ (النحل:68) ترجمہ: اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ( اونچی اونچی ) چھتریوں میں جولوگ بناتے ہیں گھر بنا۔اب یہ عرفی معنوں میں تو استعمال نہیں ہوا۔حضرت ابراہیم کے پاس فرشتے آئے ان کو رسول کہا گیا ہے۔(الذاریات:31) اس کے علاوہ لفظ نکاح کو ہم یہاں اصطلاحی معنوں میں لیتے ہیں۔عربی لغت میں ابھی تک اسے مباشرت کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ولیمہ ہم صرف شادی کی ضیافت کو کہتے ہیں۔عربی میں اس سے مراد عام دعوت بھی لی جاتی ہے۔اصل بات تو دیکھنے والی یہ ہے کہ کیا جو لفظ لغوی معنوں میں استعمال کیا جا رہا ہے اس کو استعمال کرنے پر قرآن وسنت کوئی پابندی عائد کرتے ہیں۔اور اگر قرآن خود ایسے الفاظ کو لغوی معنوں میں استعمال کرتا ہے تو پھر اس پر پابندی نہیں عائد ہوسکتی۔اس ملک میں جس میں ہم رہتے ہیں یہاں پر بھی لوگ بعض بزرگوں کو کافر بھی کہتے رہے ہیں اور رضی اللہ عنہ بھی کہتے رہے ہیں۔اس سلسلے میں ہم نے قریباً ایک سو حوالے نکالے ہیں۔بعض پیش کر رہا ہوں۔تذکرۃ الاولیاء میں امام جعفر صادق کو رضی اللہ عنہ لکھا ہے۔امام باقر اور امام شافعی کو بھی لکھا ہے۔(تذکرة الاولیاء از خواجه فرید الدین عطار اُردو صفحه 18 مترجمه پروفیسر عنایت الله ایم۔اے 82 در ذکر امام جعفر صادق)