امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 80
ترجمہ :۔اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔اور سورہ مائدہ آیت 119 قَالَ اللَّهُ هَذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَلِدِينَ فِيْهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ترجمہ: خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راستبازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی۔ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ابدالآبادان میں بستے رہیں گے۔خدا اُن سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔یہ بڑی کامیابی ہے۔ان سب آیات میں صحابہ کے علاوہ دیگر نیک لوگوں لئے بھی یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔پھر متعدد حوالے ایسے ہیں جن میں بزرگان دین کو رضی اللہ عنہ لکھا گیا۔مثلاً مہر منیر میں حضرت گنج شکر کو رضی اللہ عنہ کہا گیا ہے۔حميل ” جامع الثناء میں حضرت غوث الاعظم عبد القادر جیلانی اور امام لیث بن سعد، امام ابوالحسن الشاذلی ، شیخ احمد بن عطاء اللہ اور حسن البکری کو رضی اللہ عنہ کہا گیا ہے۔ہے ”الیواقیت والجواہر" میں امام شعرانی نے شیخ محمد طاہر، محی الدین ابن عربی، ناصرالدین مالکی کو رضی اللہ عنہ لکھا ہے۔اور انوار اصفیاء میں مالک بن دینار کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ہم سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا کسی کافر کے لئے بھی کبھی رضی اللہ عنہ کالفظ استعمال ہوا ہے؟ 80