امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 79
رضی اللہ عنہ قرآن کریم میں صحابہ کے علاوہ اور مومنوں کو بھی رضی اللہ عنہ کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔مثلاً سورۃ توبہ آیت نمبر 100 وَالشَّيقُوْنَ الَّا وَلُوْنَ مِنَ المُهْجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواعَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا الأنْهرُ خَلِدِينَ فِيْهَا اَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورة التوبة: 100) ترجمہ: جن لوگوں نے سبقت کی ( یعنی سب سے ) پہلے (ایمان لائے ) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور ) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔یہ بڑی کامیابی ہے۔اس میں تابعین کے لئے رَضِيَ اللهُ عَنْهُم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اسی طرح سورہ تینه آیت 8 جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنْتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيْهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ۔ترجمہ: ان کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ابدالآبادان میں رہیں گے۔خدا ان سے خوش اور وہ اس سے خوش۔یہ (صلہ ) اس کے لئے ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے۔سورة الفجر آيت 28,27 يَأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةٌ 79