امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 78 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 78

صفحه 564,562,561 زير آيت سورة الكهف آیت 21 از مولانا مفتی محمد شفیع، ضیاء القرآن جلد سوم صفحه 21 از پیر محمد کرم شاہ زیر آیت سورة كهف:21) پھر حدیث میں آتا ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے جب کوئی نیک آدمی مرجاتا تھا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے تھے۔(بخاری کتاب المساجد باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية) قرآن کے شعائر ہمارے بھی شعائر ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ ہمیں بھی دعوت دی جاتی کہ ان پر عمل کیا جائے لیکن اس کے بر عکس ستم یہ ہے کہ ہمیں ان اچھی باتوں پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ جہاں یہ لغوی اور اصطلاحی مطالب ساتھ ساتھ چل ہوں۔وہاں پر اصطلاحی استعمال سے روکا جاسکتا ہے یا نہیں۔جماعت احمدیہ کی ایک منفرد حیثیت ہے۔ہم وہ ” غیر مسلم ہیں جو قرآن وسنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔قانون کے جبر سے غیر مسلم قرار دیئے گئے ہیں۔ہمارا ان لوگوں سے واضح فرق ہے جو خود کو اعلانیہ غیر مسلم کہتے ہیں۔اور ان معنوں میں ہمارا ان سے کوئی موازنہ نہیں۔امیر المومنین یہ آرڈینینس ایک مفروضے پر مبنی ہے۔اگر وہ غلط ہے تو یہ آرڈینینس بھی غلط ہے۔مفروضہ یہ ہے کہ خلفائے راشدین کے علاوہ کسی پر امیر المومنین کا لفظ نہیں بولا جا سکتا۔حالانکہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ جابر سلطان اور بادشاہوں کے لئے امیر المومنین کا لفظ استعمال ہوتا رہا ہے۔اور اگر اب بھی یہ لفظ جابر بادشاہوں کے لئے استعمال کیا جائے تو کوئی جرم نہیں۔لیکن اگر کوئی احمدی یہ لفظ استعمال کرے تو جرم ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اگر امیر المومنین سیاسی طور پر سر براہ مملکت کیلئے استعمال ہو تو پھر محض امیر المومنین کا لفظ استعمال کرنا درست نہ ہوگا، مگر ایسی صورت میں دینی علم رکھنے والوں کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا ہے۔مثلاً امام مالک کو اور فی زمانہ مولوی نذیر حسین دہلوی وغیرہ کو کہا گیا ہے۔78