امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 77 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 77

وتصنیفات میں کوئی سند موجود نہیں۔تفسیر المنار میں یہ بھی ذکر ہے کہ اگر معابد میں بدعتیں بھی شامل ہو جا ئیں تب بھی انہیں مٹانا جائز نہیں۔(المنار جلد اول صفحہ 432-433) علامہ نیسفی نے لکھا ہے کہ:۔ذکر اللہ سے روکنے والا سخت ظالم ہے“۔(مدارک التنزيل وحقائق التاويل جلد اوّل صفحه 81 بيروت) روکنے کا ایک طریق اذان پر پابندی ہے کہ مصروف آدمی کو نماز کا وقت یاد دلانے کا سلسلہ ختم ہو جائے اور وہ مسجد کی حاضری سے محروم ہو جائے۔علامہ قرطبی نے فرمایا کہ:۔" شعائر کا نقطل مسجد کی ویرانی کے مترادف ہے“۔(قرطبی جزء ثانی صفحه 77,76 مصر 1935ء) پس ہم احکامات قرآنی کے پابند ہیں۔قرآن جوشعائر تجویز کرتا ہے یہ ہمارے بھی ہیں۔تفاسیر سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کا لفظ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔(بیان القرآن از اشرف على صفحه 62 ، معارف القرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع جلد اوّل صفحه 299 زیر آیت سورة بقره:115، ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاه سجاده نشین بهیره جلد اوّل صفحه 87 تفهيم القرآن از مولانا ابوالاعلی مودودی جلد ششم صفحه 119 زير آيت سورة جن:18) سورۃ کہف کی آیت 22 لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا۔۔۔۔الخ بتاتی ہے کہ اصحاب مَسْجِدا۔۔۔۔۔کہف کی عبادت گاہ کا نام بھی مسجد تھا۔حالانکہ وہ عیسائی تھے۔معلوم ہوا کہ قرآن نے عیسائیوں کے معابد کا نام بھی مسجد رکھا ہے۔اس موقف کی تائید میں مندرجہ ذیل حوالہ جات ملاحظہ ہوں۔(روح المعاني في التفسير القرآن العظيم جزء 15صفحه 236 مكتبه امدادیه ملتان از ابوالفضل شهاب الدین محمود آلوسی البغدادی تفسیر کبیر امام رازی جزء 21 صفحه 105 الطبعة الثانية دار الكتب العلمية طهران، فی ظلال القرآن از سید قطب جزء5 صفحه 89 بـ بيروت، معارف القرآن جلد 5 77