امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 75 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 75

3۔کیا مسجد کا لفظ خالصتاً اصطلاحی طور پر مسلم معابد کیلئے مخصوص ہے یا اس میں کوئی استثناء بھی ہے۔اور اگر کوئی مستثنیات قرآن وحدیث سے ملتی ہیں تو اس کا ماحصل کیا ہے؟ 4۔لغوی طور پر مسجد کا لفظ کن معابد کے لئے مستعمل رہا ہے؟ ہم نے لسان العرب بحجم متن اللغۃ ، اصطلاحات العلوم الاسلامیۃ ،شارٹرانسائیکلوپیڈیا آف اسلام ( لندن ) کے حوالوں سے مسجد کے لفظ پر لغوی بحث کر کے یہ بات واضح کی ہے کہ لغت اور اصطلاح ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور لفظ مسجد لغوی طور پر یہود اور نصاری کی عبادتگاہوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ایک حدیث میں بھی گرجے کے لئے مسجد کا لفظ استعمال ہوا ہے۔(Shorter Encyclopaedia of IslamP۔330) اور ابن خلدون لفظ مسجد کو عمومی معنوں میں تمام مذاہب کے معابد کے لئے استعمال کرتے تھے۔جب ہم قرآن کریم پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے معابد کے لئے اس لفظ کا اطلاق کیا ہے۔چنانچہ سورۃ نبی اسرائیل آیت نمبر 2 میں فرماتا ہے :۔سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْاَ قْصَى الَّذِى بَرَكْنَا حَوْلَهُ - (بنی اسرائیل :2) - گویا اس میں مسجد اقصیٰ کو جوقبل از اسلام عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہ تھی مسجد کہا گیا ہے۔اب اگر لغوی معنوں میں ان امتوں کے معابد کو مسجد میں کہا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس کے اصطلاحی معنی خالصہ مسلمانوں کے لئے مروج ہو گئے ہیں اور کسی دیگر مذہب کی عبادت گاہ کے لئے کبھی استعمال نہیں ہو سکتے یا نہیں ہوئے۔تو اول تو اس کی سند چاہئے۔کراچی میں یہود کی عبادت گاہ ” مسجد بنی اسرائیل“ کے نام سے 75