امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 74 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 74

اب ہم آرڈینینس کے اس حصے کا جائزہ لیتے ہیں جس میں بعض الفاظ ، اصطلاحات اور دعائیہ کلمات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔سب سے پہلا لفظ جس کا استعمال ہمارے لئے ممنوع قرار دیا گیا ہے وہ مسجد ہے۔آرڈینینس میں اگلا قدم یہ اٹھایا گیا ہے کہ ہمارے لئے گویا نئی لغت ایجاد کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ میں فلاں لفظ استعمال کروں اور فلاں نہ کروں۔بزرگوں کو رضی اللہ عنہ نہ کہوں۔مسجد کا لفظ استعمال نہ کروں وغیرہ وغیرہ۔ہمیں اس لئے غیر مسلم قرار دیا گیا ہے کہ ہم ایک مدعی نبوت کو کسی محدود یا مخصوص مشروط معنوں میں نبی مانتے ہیں۔گویا اس جرم کی سزا ہمیں دی گئی۔اب اس نبی کو نبی سمجھنے کے ساتھ جو ملحقات ہیں اس کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ آپ عیسائیوں کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام کو ابن اللہ کہنے پر تو معترض نہیں ہیں حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ ایسی بات ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں۔تكاد السموات يتفطرن۔۔۔شورى:4) لیکن چندا ایسے الفاظ کے استعمال پر معترض ہیں جو ہمارے درمیان مشترک ہیں۔لفظ مسجد کے استعمال کی بحث میں لغوی اور اصطلاحی مطلب کا فرق واضح کرنے کے بعد ہماری بحث کا ماحصل یہ ہے کہ لغت اور اصطلاح دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔مسجد کے بارہ میں مندرجہ ذیل سوالات عدالت کو زیر غور لانے چاہئیں۔1۔کیا کوئی ایسا شخص جو قرآن کریم کے نظام حیات کو اپنا لے۔اس سے قرآنی اصطلاحات چھینی جاسکتی ہیں؟ 2۔جب کوئی لفظ لغوی اور اصطلاحی معنوں میں ساتھ ساتھ استعمال ہو رہا ہو تو کیا اس کے استعمال پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے؟ 74