امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 72 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 72

پس ہمارا مطالبہ تو صرف یہ ہے کہ شعائر اللہ میں سے کسی شعار مثلاً اذان پر کوئی کافر بھی عمل کر سکتا ہے اس کو کوئی روک نہیں ہونی چاہئے۔قرآن پاک کے مطابق کوئی اولوالا مرکسی احسن قول یعنی نیک بات پر پابندی نہیں لگا سکتا۔پس ہماری دلیل یہ ہے کہ کسی کا فر کو بھی اذان دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔جیسا کہ ردالمحتار سے اس موقف کی وضاحت ہوتی ہے۔لکھا ہے کہ وقت پر اذان دینا ایسی چیز ہے جس سے کافر کو مسلمان قرار دیا جا سکتا ہے۔اس سے اذان کی عظمت ظاہر ہے۔اپنی کتاب ”اسلام کا نظام مساجد میں مولانا ظفیر الدین صاحب نے احادیث کے حوالے سے اذان کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:۔اذان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ ایک ایسا شعار دین ہے جس کی وجہ سے دار دارالاسلام کے حکم میں ہو جاتا ہے“۔اور اس میں ایک عظیم الشان عبادت اور ایک مہتم بالشان رکن کی طرف ترغیب پائی جاتی ہے۔خیر متعدی اور اعلائے کلمہ حق میں اللہ تعالیٰ کی جو خوشنودی ہے کسی اور چیز میں نہیں“۔(اسلام کا نظام مساجد صفحه88) حدیث میں ہے شیطان اذان سن کر بھاگ جاتا ہے۔(ترمذى كتاب الصلواة باب ماجاء فضل الاذان وهراب الشيطان) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ حضور جب باہر غزوات پر تشریف لے جاتے تو صحابہ سے فرماتے کہ دیکھو دشمن کے علاقے سے اذان کی آواز تو نہیں آ رہی۔اگر کہیں سے وہ اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ نہ فرماتے۔جس بات سے شیطان بھاگتا ہے اس پر پابندی عائد کرنا گویا شیطان کی طرفداری کرنا ہے اس لئے ایسا کام بجائے خودشیطانی فعل بن جاتا ہے۔پس اولوالامر کا ایسا قانون بنانا ہرگز مستحسن نہیں۔72