امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 71
قرار دینا صحیح نہیں۔چنانچہ علامہ ابن عابدین نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اذان چونکہ شہادتین پر مشتمل ہے اس لئے ابن شحنہ نے صراحت کی ہے کہ بروقت اذان دینے پر موذن پر اسلام کا حکم لگایا جائے گا خواہ وہ عیسائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ کافر جو مسلمان ہوتا ہے تو دو باتوں سے قول سے۔اور فعل سے۔اور قول سے مراد شہادتین کے کلے ہیں۔البتہ اگر غیر وقت میں اذان دے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا۔(رد المحتار جز اوّل طبع دوم 1966ء صفحه 259) علامہ ابن نجیم نے اپنی کتاب میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اذان سے کوئی شخص مسلمان ہو جائے گا؟ پھر کہتے ہیں کہ بزازی نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ اگر ذمی کے متعلق یہ گواہی ہو کہ وہ اذان دیتا اور اقامت کہتا تھا تو وہ مسلمان متصور ہو گا خواہ سفر میں ہو یا حضر میں۔(البحر الرائق جلد اوّل صفحه 264) آیت لَا تُحِلُوا شَعَائِرَ الله کے شان نزول کی بحث میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ آئندہ سال مشرکین کے حج روک دیئے جانے اور اس آیت (مائدہ :2) میں مشرکین کو حج سے نہ روکنے کا جو ذکر ہے اس سے نسخ واقع ہوایا نہیں۔علامہ سیوطی کی ایک روایت کے مطابق مائدہ آیت 2 میں صرف وَلَا آمِينَ البَيْتَ الحَرَامَ کا ٹکڑا اسورہ توبہ کی تین آیات سے منسوخ ہوا ہے جب کہ آیت مذکورہ کا ٹکڑا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللهِ منسوخ نہیں۔(الدر المنثور المجلد الثاني صفحه 254) اس طرح ناسخ و منسوخ کی لمبی بحث میں پڑے بغیر بھی ہمارا استنباط باطل نہیں ہوتا کیونکہ ہم نے جو تین اصول مستنبط کئے ہیں ان پر انحصار کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ باتیں جو موحدین کی ہیں اگر ان کو دوسرے بھی اپنائیں تو ان کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر برا نہ منایا جائے۔نیز جب کسی آیت کا شان نزول معتین بھی ہو تو الفاظ کے عموم پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔71