امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 70
پس اس کو قابل تعزیر جرم نہیں بنایا جاسکتا۔علامہ سیوطی نے حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت بھی بیان کی ہے کہ احسن قول کہنے والے سے مراد موذن ہے۔(الدرالمنثور المجلد الخامس صفحه 684 زیر آیت سورة فصلت آيت (33) اسی طرح سنن ابن ماجہ میں یہ حدیث مروی ہے کہ ایک صحابی رسول حضرت ابومحذورہ نے بیان فرمایا کہ ہم بچے تھے اور میں ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا میری آواز بڑی بلند تھی ہم ایک دفعہ کھیل رہے تھے اس دوران موذن نے اذان دی تو ہم اس کو دہراتے ہوئے اس کا مذاق اُڑانے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب بچوں کو بلا یا اور مجھے فرمایا کہ تم اذان دو۔اس پر میں نے اذان دی حالانکہ اس وقت مجھے اسلام سے بڑی نفرت تھی۔(سنن ابن ماجه کتاب الاذان باب الترجيع في الاذان) ابومحذورہ بعد میں مسلمان ہو گئے۔اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت ان سے اذان دلوائی جب وہ مسلمان نہیں تھے۔اگر میں آپ کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں تو نہ سہی مگر مجھے اذان دینے سے روکا نہیں جا سکتا اور نہ اس پر تعزیر لگائی جاسکتی ہے۔اذان کی بہت فضیلت احادیث میں بیان ہوئی ہے۔یہ کارثواب ہے اسے معصیت اللہ پر محمول کر کے قابل تعزیر جرم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔اذان کی فضیلت کے بارہ میں محدثین نے ابواب باندھے ہیں۔لکھا ہے کہ سات سال تک اذان کہنے والے کے لئے آگ سے برات لکھی جاتی ہے۔اور موذن ضامن اور امین ہوتا ہے اور اذان سن کر دہرانے والے کے لئے شفاعت رسول کی نوید ہے۔(ترمذى كتاب الصلواة باب ماجاء فضل الاذان) فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جو اذان دیتا ہے اسے مسلمان سمجھو اور اس کی شہادت قبول کر لو۔پس اذان دینا کوئی قابل مذمت فعل نہیں بلکہ احسن قول ہے جسے قابل تعزیر جرم 70