امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 67
وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب (المائده:2) ترجمہ: مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور ) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر ( یعنی بیت اللہ ) کو جا رہے ہوں (اور ) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں۔اور جب احرام اتار دوتو ( پھر اختیار ہے کہ ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو۔اور (دیکھو) نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے۔اس آیت میں شعائر اللہ کا ادب کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کہا کہ لوگوں کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ظلم کرو۔قرآن نے کہا کہ تم ان لوگوں کو بیت الحرام میں آنے سے مت روکو جنہوں نے تم سے دشمنی کرتے ہوئے تم کو روکا تھا۔اس میں فتح مکہ کے بعد کے واقعات کی طرف اشارہ ہے جب مسلمانوں نے مشرکین کے قربانی کے جانوروں کو چھین کر ان کو حج سے روکنے کی کوشش کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو کہا گیا کہ جو شخص بھی اپنے طور پر خواہ کتنی ہی بگڑی شکل میں اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے خانہ کعبہ میں آنا چاہتا ہے چاہے وہ مشرک ہے یا کوئی اور عقیدہ رکھتا ہے تو اس کومت روکو، اسے آنے دو۔اس آیت کی شان نزول میں تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى“ کا حکم ظاہر کرتے ہیں کہ جب شعائر مشترک ہوں تو ان میں دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔اس 67