امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 65
وجود برقرار رکھنے کے لئے دی گئی ہے۔مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں لکھا ہے کہ جہاں تک قرآن کریم کی روح کا تعلق ہے۔دین میں کسی پہلو سے جبر جائز نہیں کیونکہ ایمان اور اعتقاد کا محل دل میں ہے اور دل اپنی ذات میں ایسی چیز ہے جس پر کوئی جبر و اکراہ ممکن ہی نہیں۔حریت فکر کے بارہ میں روح اسلام کو ذہن نشین کرنے کے بعد صرف یہ بات عرض کر دینا ضروری ہے کہ تمام احکام کو اس نظر سے جانچا جائے گا کہ آیا وہ حریت فکر کی اس روح کے معارض یا منافی تو نہیں ہیں اور احکام شریعت کو سمجھنے میں بھی یہی بنیادی روح ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے اور احکام شریعت کی کوئی ایسی تعبیر جائز نہیں جو حریت فکر کی اس بنیادی روح کو مجروح کرتی ہو کیونکہ ہر ایسی تعبیر گویا قرآن حکیم میں تضاد تسلیم کر لینے کے مترادف ہوگی۔اس بنیادی گزارش کے ساتھ اب ہم آرڈینینس کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ایک امر جس سے آرڈینینس میں روکا گیا وہ اذان ہے۔اذان دراصل مقدمتہ الصلوۃ ہے۔باجماعت نماز کے لئے اس کی اہمیت اور شرعی وجوب سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اذان اذان کی بحث کے شروع میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اذان کیا ہے اور اس کا نفس مضمون کیا ہے؟ یہی کہ اذان ” شہادتین پر مبنی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعلان ہے۔اب اس آرڈینینس کی رو سے صورت حال یہ بنتی ہے کہ ایک مسلمان ملک میں ” شہادتین کے اعلان سے روکا جارہا ہے۔ہم عدالت کے سامنے یہ بات پیش کرنا چاہتے ہیں کہ آخر ہمیں کس چیز سے روکا جا رہا ہے۔کیا اس سے کسی کو بھی ، چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو روکا جاسکتا ہے؟ کیا قرآن میں کوئی آیت یا احادیث میں کوئی 65