امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 64 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 64

کوئی عقیدہ جبراً کسی کے سرٹھونسا نہیں جاسکتا اس ضمن میں سورۃ کہف کی آیت وَقُل الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (سورة الكهف:29) کی تفسیر کے سلسلہ میں ترجمان القرآن (ابوالکلام آزاد ) تفہیم القرآن (مودودی) المراغی، فی ظلال القرآن ( سید قطب ) اور المظہری ( ثناء اللہ پانی پتی ) کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو دین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا آپ کا کام یہ تھا کہ اسے بلا کم و کاست پیش فرما دیں لوگ مانتے ہیں تو فبہا نہیں مانتے تو نہ مانیں۔اس معاملہ میں کوئی زبردستی نہیں۔انسان کا عقیدہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے جو چاہے اس پر ایمان لائے اور جو چاہے ایمان نہ لائے۔انسان کو اس معاملہ میں خدا نے آزاد چھوڑا ہے۔اسلام نہ صرف مذہبی آزادی کا علمبردار ہے بلکہ حریت فکر اور حریت عقیدہ کی ضمانت بھی دیتا ہے اس ضمن میں سورۃ حج کی آیت الَّذِيْنَ اُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يقُولُوا رَبُّنَا اللهُ - وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وصَلَوَاتٌ ومَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا ( الحج : 40) سے یہ امر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مذہب کی عبادت گاہ کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔اس آیت میں مسجد کا لفظ قرآن نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے لئے بھی استعمال کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ عبادت گا ہیں خواہ کسی مذہب کی ہوں ان کی ویرانی کے در پے نہ ہوں۔مساجد کی ویرانی کی ایک جزوی صورت اذان پر پابندی بھی ہے۔اس امر کی تائید میں روح المعانی اور معارف القرآن کے حوالے بھی پیش کئے گئے ہیں۔ان میں بتایا گیا ہے کہ یہ عادۃ اللہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص حریت فکر کو پامال کرتا ہے تو اللہ اس کی بحالی کا انتظام فرما دیتا ہے اس طرح جنگ و قتال کی اجازت بھی مساجد اور معابد کا 64