امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 62
مذہبی آزادی اور روح اسلام جب مذہبی آزادی اور حریت فکر کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی روح کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ حریت فکر اور مذہبی آزادی کا مضمون متعدد آیات قرآنی میں موجود ہے۔چنانچہ فرمایا:۔اگر اللہ چاہتا تو دنیا میںکوئی شخص ہدایت سے محروم نہ رہتا اور جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے“۔(سورۃ یونس : 100) اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا کہ کیا تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال دے گا کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ہیں۔(سورۃ الشعراء:3) اگر اللہ چاہتا تو انسان کو اور ہی مخلوق بنا دیتا اور وہ بدی سے بے نیاز ہوجاتے مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ انسان کو خیر وشر کی پہچان کرائی۔(البلد:10 الشمس:8) پس دل کے معاملات میں کوئی جبر نہیں ہو سکتا اور ایمان کا تعلق دل سے ہے مذہب کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے کبھی جبر سے کام نہیں لیا۔کسی کو دین کے معاملہ میں مجبور کرنا اللہ کی عادت نہیں۔(البقره:256) اللہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اپنے اختیار سے اس پر ایمان لائیں۔(الکھف:29) انسان کا شرف ہی اس کی آزادی ہے ورنہ اللہ چاہتا تو انسان کو بھی فرشتوں کی طرح بنا دیتا اور وہ کوئی گناہ کر ہی نہ سکتے۔ہم نے آیات قرآنی کے اس مضمون پر وسیع نظر ڈالنے کے لئے ان جملہ آیات کی تفاسیر، پرانی کتب تفاسیر سے بھی اور نئی کتب سے بھی متقدمین اور متاخرین دونوں کی آراء کو مدنظر رکھا ہے تاکہ زیادہ جامع نقطۂ نظر سامنے آسکے۔لا إِكْرَاهَ فِی الدّین کے شانِ نزول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مدینہ 62