امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 59 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 59

خلاف قرآن وسنت ہے یا نہیں گو عدالت قرآن وسنت کا مفہوم متعین کرنے میں دوسری آراء سے مدد تو لے سکتی ہے مگر کسی دوسرے کے قیاس اور استنباط کی مطلقا پابند نہیں ہے )۔کسی قانون کے خلاف قرآن وسنت ہونے کی بنیاد پر باطل قرار دیئے جانے کے لئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا وہ قانون اسلام کے عام شرعی اصولوں اور روح اسلام سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ اقتدار وقت جب کوئی قانون وضع کرے تو وہ صرف ان امور میں قانون وضع کر سکتا ہے جس میں شریعت نے خاموشی اختیار کی ہو مگر کسی اقتدار وقت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ حلت و حرمت کی نئی قدریں قائم کرے یا کسی نیکی کو بدی قرار دے یا بدی کو نیکی ٹھہرائے اس طرح سے سورۃ نساء کی آیت 59 اور آئین کا D-203 اقتدار وقت کے حدود کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں اور شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار کی تعیین بھی۔موجودہ درخواست کے فیصلے کے لئے ہم اپنے اعتقادات کی بحث از خود اٹھانا نہیں چاہتے۔سوائے اس کے کہ آرڈینینس کی کسی دفعہ کے نفاذ کے سلسلے میں کسی حصہ عقائد کا ذکر ضروری ہو اور ہماری ساری بحث اس حد تک محدود ہے کہ آیا آرڈینینس قرآن وسنت اور اس کے وضع کردہ اصولوں سے متصادم تو نہیں۔قرآن وسنت کی نصوص اور اصول چونکہ زیر بحث آئیں گے لہذا سب سے پہلے قرآن فہمی کے اصول کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے آئمہ سلف نے کیا کیا اصول وضع فرمائے ہیں اور ان سے کس طرح سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟ قرآن فہمی کا اولین اصول تو یہ ہے کہ قرآن ہی سے اس کی تفسیر کی جائے کیونکہ قرآن حکیم کا اپنا دعویٰ یہ ہے کہ وہ تمام مضامین کو پھیر پھیر کر مختلف پیرایوں میں بیان کرتا ہے۔قرآن کریم نے کوئی اہم مضمون محض سرسری طور پر بیان کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ تصریف آیات کے ذریعہ سے مختلف پیرایوں میں مضمون کو بیان کر کے ذہن نشین کر وا دیا ہے اور بعض جگہ جو مضمون اجمالاً بیان ہوئے ہیں ان کو دوسری جگہ تفصیلاً بیان فرما دیا ہے تصریف آیات کے 59