امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 57
رسول کی خلاف ورزی نہ کریں۔۔۔قیاسات اور استنباط کو ماننا واجب نہیں“۔(تفسير القرآن الحكيم المعروف بتفسير المنار للاستاد الشيخ محمد عبده تاليف السيد محمد رشيد رضاء الجزء 19 صفحه 182,181- بيروت) 4۔اس آیت میں ملت اسلامیہ کے اساسی نظام کا قاعدہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت واجب ہے اور پھر ان کی ماتحتی میں اولی الامر کی اطاعت بھی۔اس اصول کے ساتھ اسلام ہر فرد بشر کو شریعت الہیہ اور سنت رسول پر اور اپنے ایمان اور دین پر امین بنا دیتا ہے۔کیونکہ شریعت واضح ہے اور حدو د اطاعت بھی واضح ہیں۔(في ظلال القرآن للسيد قطب، الجزء الخامس صفحه 111,110) مولوی ثناء اللہ امرتسری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔5۔"کتاب اللہ اور سنت رسول کے بعد اولوالامر کی اطاعت امور جائزہ میں واجب ہے۔۔اولوالامر سے مسلمانوں کے امیر یا حاکم مراد ہیں، علماء و مجتہدین کے قیاسات اور استنباط کے بارہ میں اصول فقہ میں صاف مذکور ہے کہ مجتہد کی بات غلط بھی ہو جاتی ہے۔پس اگر اس کے قیاسات قرآن وحدیث سے مستنبط ہوں گے تو ان کے ماننے سے کون مسلمان انکار کرے گا اور اگر بتقاضائے انسانیت ان سے کچھ خلاف ہو گیا تو کیا کسی ایماندار کا ایمان بمقابلہ آیت یا حدیث اس کے ماننے کی اسے ہدایت کرے گا۔(ملخص از تفسیر ثنائی جلد اوّل صفحه 411,410 از مولوی ابوالوفاء ثناء الله امرتسری زیر آیت سورة النساء: 59) ابوالاعلیٰ مودودی اس آیت کے ماتحت ایک طویل نوٹ میں رقم طراز ہیں :۔6۔یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولین دفعہ ہے۔۔۔اسلامی نظام میں خدا کا حکم اور رسول کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند کی حیثیت رکھتا ہے۔مسلمانوں کے درمیان یا حکومت اور 57