امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page vi
کی فضلیت و برتری کو ثابت کرنے والے ہیں۔جس قدر علمی کام ہوا اور جو جد و جہد کی گئی وہ بھی جماعتی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ہر چند کہ عدالتی فیصلے میں اس محنت کی جھلک نظر آتی ہے اور خود عدالت نے اس کا اقرار بھی کیا ، مگر ہمارے استدلال اور بحث کو بھی تاریخ میں محفوظ کرنا ضروری تھا۔سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خصوصی ہدایت پر محترم مجیب الرحمن صاحب ایڈوکیٹ نے مختصر طور پر اس کا رروائی کو اس کتاب میں محفوظ کر دیا ہے۔چودہ روزہ طویل علمی بحث کی تفصیل تو ٹیپ ریکارڈ ہی سے مل سکتی ہے، مگر خلاصہ بحث کے عنوان میں اس علمی بحث کا ایک نہایت جامع اور مختصر جائزہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔بہت سے حوالہ جات اس کتاب میں محفوظ ہو گئے ہیں جو احباب جماعت کے عام مطالعہ کے لئے بھی اور تحقیق کرنے والوں کے لئے بھی مفید اور کارآمد ہوں گے۔اسی طرح ضمیمہ موجبات اپیل میں جماعت کے خلاف جملہ اعتراضات کا ایک مختصر جواب بھی یکجائی طور پر احباب جماعت کے لئے مہیا ہو گیا ہے۔ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس کا رروائی کو شائع کر کے احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی توفیق پار ہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور بہتوں کے لئے حق وصداقت کی طرف رہنمائی اور ہدایت کا موجب بنائے۔نصیر احمد قمر ایڈیشنل وکیل الاشاعت لندن ==