امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 52 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 52

اور شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار کا جائزہ لیا ہے۔2۔اس کے بعد ہم نے اس امر پر بحث کی ہے کہ قرآن فہمی کے اصول کیا ہیں اور قرآن وسنت کا مفہوم متعین کرنے کیلئے ہمیں کن اصولوں کی پابندی کرنی چاہئے۔3۔اس کے بعد ہم نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذہبی آزادی کے بارہ میں روح اسلام کیا ہے؟ کیونکہ زیر نظر آرڈی نینس مذہبی معاملات سے متعلق ہے اور اس کا اس نظر سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا وہ مذہبی آزادی کے اسلامی اصولوں سے متصادم تو نہیں۔اس لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے کہ مذہبی اعتقادات اور مذہبی معاملات کی آزادی کے بارہ میں اسلام کی روح کیا ہے تا کہ اس روشنی میں زیر نظر قانون کا جائزہ لیا جا سکے۔4۔اس کے بعد ہم نے آرڈینینس کی مختلف شقوں کا الگ الگ جائزہ لیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ قانون کس طرح سے اسلامی اصولوں اور نصوص سے متعارض ہے اور اس ضمن میں اذان، لفظ مسجد، بعض اصطلاحات ، حق تبلیغ اور اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے حق کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ 5۔آیا شریعت اسلامیہ کی رُو سے کسی ایسے فعل کو قابل تعزیر بنایا جا سکتا ہے جو اپنی ذات میں معصیت نہ ہو اور جسے شریعتِ اسلامی گناہ ، مکروہ یا مذموم قرار نہ دیتی ہو۔اپنی بحث میں ہم نے دستور کی ترمیم کو موضوع بحث نہیں بنایا کیونکہ وہ اس عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔اس درخواست کے فیصلہ کرنے میں مندرجہ ذیل سوالات عدالت کے زیر غور آئیں گے جن پر عدالت کو کوئی فیصلہ دینا ہوگا۔-1۔کیا اسلام کسی غیر مسلم کو یہ حق اور اجازت دیتا ہے کہ وہ خدا کی وحدانیت کا اقرار اور 52