امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 51
آغاز سخن موجودہ درخواست دستور پاکستان کے آرٹیکل D-203 کے تحت داخل کی گئی ہے اور اس کے ذریعہ صدر پاکستان کے جاری کردہ حالیہ آرڈینینس نمبر XX کو اس بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے کہ وہ قرآن وسنت کے خلاف ہے۔اس درخواست کا مقصد ایک دینی فریضہ کی ادائیگی ہے جو ہم پر ملک وملت کی طرف سے عائد ہوتا ہے۔کیونکہ ایک قانون جو قرآن وسنت کے منافی ہوا سے ملکی قانون کا حصہ نہیں رہنا چاہئے اور اسے باطل قرار دیا جانا چاہئے۔یہ ایک نہایت اہم اور تاریخی مقدمہ ہے اور اس مقدمہ کے فیصلہ سے پاکستان کی تاریخ پر بڑے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہونگے۔اس مقدمے کے فیصلہ ہی سے وہ راہیں متعین ہوں گی جن پر آگے چل کر اس ملک میں اسلامی قانون کا نظام نافذ ہوگا۔اس مقدمہ کے فیصلہ ہی سے یہ بات ظاہر ہوگی کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کا کس حد تک احترام کیا جائے گا اور کس حد تک اسے پامال ہونے کی اجازت دی جائے گی۔اس مقدمہ کے فیصلہ ہی سے یہ بات بھی واضح ہوگی کہ آیا اقتدار وقت کو شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ آبادی کے کسی حصہ کے مذہبی معاملات میں بلا روک ٹوک دخل اندازی کرے اور اس مقدمہ کے فیصلہ پر ہی اس بات کا انحصار ہو گا کہ مذہب، مذہبی اعتقادات اور تعبدی امور میں سیاسی اقتدار وقت کی دخل اندازی شرعاً جائز ہے یا نہیں۔اور اس مقدمہ کے فیصلہ کی روشنی میں ہی اس ملک عزیز کے دوسرے شہری اپنے مذہبی حقوق کے بارے میں اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کا اس نظر سے جائزہ لیں گے کہ وہ اپنے پروردگار کے حضور عبادت بجالانے میں آزاد ہیں یا نہیں۔زیر بحث درخواست پر اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کے لئے 1۔سب سے پہلے ہم نے از روئے قرآن وسنت اقتدار وقت کی قانون سازی کی حدود 51