امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 47
کے ذہن میں وہ حوالہ نہیں تھا اور کچھ معلوم نہیں تھا کہ عبارت کیا ہے۔خاکسار نے کتاب ہاتھ میں پکڑی حوالہ کو پڑھا۔پیر سراج الحق صاحب نے اپنے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ریلوے میں ایک سفر کے دوران ایک مخالف نے نہایت گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں استعمال کیے تو پیر صاحب نے غیرت میں آکر اس مخالف کو ایک تھپڑ دے مارا۔پیر صاحب نے اس مخالف کے گندے الفاظ ہو بہوا اپنی کتاب میں نقل کر دیئے تھے۔مخالف کا خیال تھا کہ اس نے ہمیں خجالت اور شرمندگی سے دو چار کر دیا ہے۔ریاض الحسن گیلانی مسکرا کر دا دطلب نظروں سے دیکھتے رہے۔گویا کہہ رہے ہوں کیسا وار کیا ہے؟ نصرت الہی کا کرشمہ دیکھئے کہ ایک بجلی سی دماغ میں کوند گئی اور اچانک اللہ تعالیٰ نے جواب سمجھا دیا۔خاکسار نے عدالت کو مخاطب کر کے کہا کہ جناب میں بھی یہ حوالہ نہیں پڑھ سکتا۔گیلانی صاحب تو اس لئے نہیں پڑھ سکتے کہ یہ الفاظ ان کے کسی بزرگ کے ہیں وہ کس منہ سے اپنے بزرگ کا ایسا حوالہ پڑھیں۔مگر میں سوچتا ہوں کہ میرے کسی بزرگ نے ان کے کسی بزرگ کا ایسا گندا قول نقل بھی کیوں کیا تو مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ میرے بزرگ کی طرف سے یہ قول نقل کرنا تصرفات الہی سے تھا۔حضرت مرزا صاحب نے بار ہا لکھا ہے کہ اُن کے مخالفین گالیوں سے بھرے ہوئے خط اِن کو لکھا کرتے تھے اور وہ ان کو ایک بوری میں ڈال دیتے تھے۔ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کیسی کیسی گالیاں لوگ لکھتے ہوں گے اور کیسے کیسے الفاظ استعمال کرتے ہوں گے۔الہی تصرف نے ایک مثال اس کتاب میں محفوظ کر دی ہے کہ ان کے بزرگ کیسی کیسی زبان استعمال کرتے تھے۔اگر یہ حوالہ نقل نہ کیا گیا ہوتا تو کچھ معلوم نہ ہوتا۔مگر اس ایک حوالہ سے وہ سارے خطوط جن کو نظر انداز کر کے بوریوں میں پھینک دیا جاتا تھا ان سب کی حقیقت سامنے آگئی ہے اور ان کا تعفن یکلخت محسوس ہونے لگا ہے۔یہ بیان کرنے میں خاکسار کا لہجہ اور اس کا درد اور اس کی سنجید گی محسوس ہوئے بغیر نہ 47