امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 46
صاحب قلم نے یہ لکھا کہ مرزا صاحب کی تحریریں پڑھ کر وجد طاری ہو جاتا ہے اور مولانا اشرف علی تھانوی جیسے اہلِ علم نے ان کے بیان کو مؤ ثر دیکھ کر لفظاً لفظاً نقل کرنے میں عارنہ سمجھا۔آج بھی بہت سے لوگ سٹیج اور منبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریریں اور قرآنی تفسیر سنا سنا کر داد وصول کرتے ہیں۔اور آپ کی تحریروں کو اور اشعار کو بے دھڑک استعمال کرتے اور لوگوں کے دل گرماتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرزا صاحب کی کتابیں کون پڑھتا ہوگا۔جماعت کی کتابیں ضبط کرنے کے بارے میں جو شور مچایا جاتا ہے اس کے پیچھے یہی جذ بہ کار فرما ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی کتابوں پر پابندی عائد کر کے انہیں کی تحریرات پڑھ کر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سامعین سے داد وصول کی جاتی ہے۔جس کی کئی مثالیں ظاہر وباہر موجود ہیں اور جو علم میں نہیں آتیں ان کا کوئی اندازہ نہیں۔یہ صورتحال ہر احمدی سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مطالعہ کو حرز جان بنائیں اور باقاعدگی سے مطالعہ کا التزام کریں۔حضرت مسیح موعود کے صحابی پر بدزبانی کا الزام ایک دوسرے موقع پر سید ریاض الحسن گیلانی نے استہزاء کا رنگ اختیار کیا اور پیر سراج الحق نعمانی صاحب کی کتاب کا ایک صفحہ کھول کر کتاب عدالت کو پکڑا دی اور بڑے ڈرامائی انداز میں کہا کہ یہ ان کے صحابی ہیں اور یہ ان کی تحریریں ہیں۔میں تو پڑھ بھی نہیں سکتا۔آپ خود ہی پڑھ لیں۔عبدالقدوس قاسمی صاحب نے حوالہ دیکھا اور کہا کہ نہیں ایسا نہ کریں یہ ان کے الفاظ نہیں انہوں نے کسی اور کے الفاظ نقل کئے ہیں۔تو گیلانی صاحب نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ جناب کسی اور کے ہی سہی کوئی شریف آدمی یہ الفاظ نقل بھی کیسے کر سکتا ہے۔عدالت نے ریاض الحسن گیلانی کا انداز پسند نہ کیا اور کتاب آگے بڑھا دی۔خاکسار 46