امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 44
پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے سنجیدگی اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے ایسا جواب دینے کی توفیق ملی کہ خود فریق مخالف کو شرمندگی اُٹھانی پڑی۔ریاض الحسن گیلانی عدالت میں بحث کے دوران متعدد اعتراض دہراتے رہے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ ہم نے مُسکت جواب دینے کی توفیق پائی کہ فریق مخالف کو ایسی شرمندگی اُٹھانی پڑی جو ظاہر و با ہ تھی۔علمی سرقہ کا الزام ایک موقع پر ریاض الحسن گیلانی نے حضرت مسیح موعود کی عبارت سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھا کر یہ اعتراض کیا کہ مرزا صاحب نے سرقہ کیا ہے۔سرقہ کے اعتراض کا جواب تو دیا ہی گیا جس میں سرقہ اور توارد کا فرق واضح طور پر بیان کیا گیا۔اور یہ ظاہر کیا گیا کہ کسی ایک فقرے یا چند الفاظ یا کسی ایک مصرع کا توارد یا برسبیل بیان عبارت میں در آنا سرقہ نہیں ہوتا بلکہ جہاں پورا مضمون اور اس کی عبارت لفظاً لفظاً بغیر حوالہ دیئے نقل کر دی جائے ، وہ سرقہ ہوتا ہے۔خاکسار نے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب احکام اسلام عقل کی نظر میں سے چند صفحات مسلسل پڑھ کر سُنائے اور اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب دکشتی نوح سے عبارت پڑھ کر سنائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنجگانہ نماز کے اوقات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے انسانی زندگی کے لازم حال پانچ تغیر بیان کئے ہیں جیسے عدالت سے ایک وارنٹ کسی کے خلاف جاری ہو، پھر گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش کیا جائے، پھر فرد جرم لکھی جائے ، پھر شہادتوں کے بعد سزا سنادی جائے اور انسان کی زندگی پر سخت اندھیرا چھا جائے۔پھر ایک عرصہ تاریکی میں بسر کرنے کے بعد دن کی روشنی اپنی چمک 44