امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page v of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page v

عرض ناشر سال 1984ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے بدنام زمانہ امتناع قادیانیت آرڈینینس XX کے ذریعے احمدیوں کی مذہبی آزادی پر حملہ کیا اور ان پر بعض پابندیاں عائد کر دیں تو چند احمدی وکلاء نے وفاقی شرعی عدالت میں یہ درخواست گزاری که یه قانون قرآن وسنت کے منافی ہے لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔اپنی اس جدو جہد میں ان وکلاء نے جماعت کے علماء کو بھی شامل کیا جس کا کسی قدر تفصیل سے ذکر اس کتاب میں موجود ہے۔عدالتی کارروائی کا مرکزی کردار مجیب الرحمن صاحب ایڈوکیٹ تھے۔عدالت میں مقدمہ پیش کرنے کی ذمہ داری بھی اُنہوں نے ہی نبھائی اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی خصوصی رہنمائی ، دعاؤں اور روحانی تو جہات کے فیض سے خدا کے فضل سے خوب نبھائی۔راقم الحروف چودہ دن کی عدالتی کارروائی میں شامل رہا اور اس بات کا شاہد ہے کہ چودہ روز کی کارروائی تائیدات اور نصرت الہی کا ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بتایا تھا کہ ” میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے“۔اس پیشگوئی کو ہم نے اس چودہ روزہ عدالتی کارروائی میں بھی بڑی شان کے ساتھ بار بار پورا ہوتے دیکھا۔وفاقی شرعی عدالت میں قرآن وسنت سے جو استدلال کیا گیا اور ہماری جانب سے جو نکات اُٹھائے گئے وہ علمی اور تاریخی لحاظ سے اہمیت کے حامل اور احمد یہ علم کلام