امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 43
عقد ذمہ قائم کرنے کی مثالیں تو بہت دی گئی ہیں۔کہیں صلح ہوگئی کہیں فتح ہوگئی۔لیکن ایسی مثال کوئی نہیں پیش کی گئی کہ مختلف لوگوں نے مل کر ایک نئی مملکت کی بنیاد رکھی ہو۔اس کی ایک ہی مثال ملتی ہے اور وہ میثاق مدینہ ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور وہاں موجود یہودیوں اور غیر مسلموں سے مل کر ایک نئی حکومت کی بنیا د رکھی۔خاکسار نے یہ عرض کیا کہ مسلم لیگ کے اندر بھی جو علماء تھے اس میں حافظ محمد ابراہیم سیالکوٹی نے احمدیوں کو مسلم لیگ میں شامل کرنے کے اعتراض کا جواب دیا اور کہا کہ سیاست میں قوم کو بحیثیت نوع دیکھا جاتا ہے۔احمدیوں پر اعتراض بھی ہو رہے تھے اور ان کا دفاع بھی کیا جارہا تھا اور سیاسی طور پر مسلم لیگ احمد یوں کو ساتھ لے کر چل رہی تھی۔مولانا شبیر احمد عثمانی سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کوئی مفتیوں کی جماعت نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ اس شخص کو مسلمان تسلیم کیا گیا ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو اور کلمہ پڑھتا ہو۔اس لحاظ سے قادیانیوں، شیعوں ، اسماعیلیوں، رافضیوں سب کو مسلمان گردانا گیا ہے۔یہ بھی عرض کیا کہ بعض لوگ قائد اعظم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان بنتے ہی دو قومی نظریہ چھوڑ دیا۔چوہدری محمد علی نے اپنی کتاب Emergence of Pakistan میں اس کے جواب میں لکھا کہ پاکستان فوجی فتح کے ذریعہ وجود میں نہیں آیا۔یہ ایک negotiated agreement کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔اٹارنی جنرل برائے شرعی عدالت عدالت کا ماحول بالعموم سنجیدہ اور علمی رہا۔علمی بحث میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت ہر قدم پر شاملِ حال رہی جس کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔دورانِ بحث بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ فریق مخالف کی طرف سے استہزاء اور تمسخر کا انداز اختیار کیا گیا۔ایسے موقعوں 43