امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 42
احمدی کو اجازت نہیں کہ خود کو مسلمان ظاہر کرے۔مجیب الرحمن: جناب یہی بات تو زیر بحث ہے۔اس مرحلہ پر چیف جسٹس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ) چیف جسٹس : آپ نے اذان پر مسجد پر ، اصطلاحات پر بحث مکمل کر لی ہے۔آپ کا اگلا topic اب کیا ہے؟ غیر متعلقہ باتوں پر بحث اب چھوڑ دیں۔مجیب الرحمن : ٹھیک ہے۔میں نے تو جو دھول عدالتی معاونین نے اڑائی تھی اُس کو صاف کیا ہے۔ان کی باتیں بھی غیر متعلقہ تھیں۔اس حد تک میرا جواب بھی غیر متعلقہ رہا۔چیف جسٹس یہاں ہائی کورٹ کے تین تجربہ کار جج بیٹھے ہیں اور میرے بزرگ جناب جسٹس کا ظمی نے بھی کل عدالتی معاونین کو متوجہ کیا تھا۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا چیز relevant ہے اور کیا نہیں۔مجیب الرحمن: جناب سمجھتے ہیں کہ ان irrelevant باتوں کے جواب کی ضرورت نہیں تو میں یہ سلسلہ ختم کرتا ہوں۔اس روز اُٹھتے ہوئے عدالت نے یہ کہا کہ آپ اپنی بحث پہلے ختم کر لیں اور درمیان میں آنے والے مشیرانِ عدالت سے جو بات پیدا ہواس کا جواب بھی سرکاری وکلاء کی بحث کے بعد یکجائی طور پر دے دیں۔یہ گفتگو دسویں روز کی بحث کے دن ہوئی۔معاہدات کے بارہ میں ہمارا استدلال یہ تھا کہ آرڈینینس اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام اور حکومت معاہدات کے پابند ہیں۔بعض معاہدے بین الاقوامی ہیں۔بعض ملت کے اندر ہی کئے جاتے ہیں۔قرآن وسنت کا حکم ہے کہ عہد کرنے کے بعد اُس کو نہ تو ڑا کرو۔Ordinance میں اس سے انحراف کیا گیا ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ 42