امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 41
مجیب الرحمن : دیکھنا یہی ہے کہ یہ بات قرآن کہتا ہے یا نہیں۔میں نے اپنی بحث میں اس ضمن میں سارا انحصار قرآن پر رکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں قرآن کہتا ہے کہ ہر غیر مسلم اپنے conscience کے مطابق اپنے مذہب پر عمل کرے جو وہ سمجھتا ہے۔جسٹس آپ conscience کو اپنے پاس رکھیں۔اپنے مذہب کا اعلان نہ کریں، ضمیر کے مطابق بات دوسروں کو نہ سنائیے۔مجیب الرحمن : اگر کوئی آدمی اپنے ضمیر کے مطابق عبادت کرنا چا ہے۔چیف جسٹس : اس سے پھر یہ ہوگا کہ اس context کے دوسرے افراد کے ساتھ جھگڑا پیدا ہو جائے گا۔مجیب الرحمن : اگر تو عدالت نے فیصلہ اس بات پر کرنا ہے کہ کون کس سے جھگڑ رہا ہے تو بات بالکل دوسری ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ قرآن وسنت نے مجھے جو حقوق دے رکھے ہیں میں اس کی بات کر رہا ہوں۔جسٹس صدیق: بات تو اتنی ہے کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر بات نہ کریں۔مجیب الرحمن : اس طرح تو کل مجھے یہ کہا جائے گا کہ نماز بھی نہ پڑھو۔چیف جسٹس : نماز کی بات نہیں، اذان سے منع کیا گیا ہے۔اگر آپ چپکے چپکے اذان دے لیں تو کوئی بات نہیں؟ ایک مرحلے پر میں نے کہا۔مجیب الرحمن : کیونکہ میں اپنے conscience کے مطابق قرآن کو اپنے اوپر نافذ العمل سمجھتا ہوں۔اس لیے مجھے قرآن کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دی جائے۔چیف جسٹس (مسکراتے ہوئے ) یہاں پر پھر راستہ بند ہے۔Ordinance میں لکھا ہے کہ 41