امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 40
کے شعار ہونے کا تعلق ہے اس میں کوئی کلام نہیں۔سوال صرف یہ ہے کہ اذان دینا غیر مسلموں کیلئے جائز ہے یا نہیں۔مولوی محمد اشرف میں یہ بات عرض کر چکا ہوں کہ اذان کا تعلق تعبدی اعمال سے ہے جس سے ہے جس کا غیر مسلم سے کوئی تعلق نہیں۔مشیرانِ عدالت اور مولوی حضرات کی بحث ساری فقہ پر مبنی تھی۔اور نہایت دل آزار تھی۔وہ احمدیوں کا مقام تو متعین نہ کر سکے کہ وہ ذمی ہیں یا معاہد، مگر ان کے زور بیان سے دو تین فوائد ضرور حاصل ہوئے۔-1 ان کا کینہ کھل کر سامنے آگیا یعنی قَدْ بَدَتِ البَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَ مَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَر -2 -3 یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ مزید قانون سازی کے بارے میں ہمارے اندیشے بے بنیاد نہیں تھے۔یہ سب حضرات ضیاء الحق کی زبان ہی بول رہے تھے۔اور ان کی بحث ضیاء الحق کے ارادوں کی آئینہ دار تھی۔یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ قرآن وسنت سے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔سارا دارو مدار فقہ اور روایات پر ہے۔اور یہ بات ارباب اختیار پر بھی مخفی نہ رہی۔اس مرحلہ پر ہم اس بات کا اطمینان اور فخر سے اظہار کرتے ہیں کہ ہمارا ساراز در قرآن وسنت پر تھا اور فریق مخالف قرآن وسنت سے تو کوئی دلیل نہ لا سکے فقہ کے میدانوں میں عدالت کو دوڑاتے رہے۔غالب تاثر یہ تھا کہ قرآن وسنت کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ایک مرحلہ پر چیف جسٹس نے کہا : چیف جسٹس : سوال یہ ہے کہ آپ اذان نہ دیں دیگر اسماء گرامی،اصطلاحات وغیرہ استعمال نہ کریں۔40