امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 39
حوالے سے یہ بیان کرنا ہے۔رفاعی بدستور انگریزوں کی حمایت ،اسرائیل کی حمایت وغیرہ کے الزامات دہراتے رہے اور تنسیخ جہاد پر بدستور تقریر جاری رکھی۔تو چیف جسٹس نے کہا چیف جسٹس : ہم آپ سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ جو اصل چیز ہے اس پر بحث کریں یہ جو ساری باتیں آپ بیان کر رہے ہیں ان کا زیر بحث مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ایک دن میں چار مرتبہ رفاعی صاحب کو ٹوکا گیا مگر انہوں نے اپنے ہی انداز میں بحث جاری رکھی اور کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کی تنظیم میں 140 علماء یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ مرزا صاحب کے ماننے والے مسلمان نہیں۔رفاعی صاحب نے اپنے زور بیان میں یہاں تک کہا کہ سائلین نے اپنی درخواست میں یہ نقطہ اٹھایا ہے کہ آرڈینینس کے حق میں قرآن وسنت کی کوئی دلیل یا نص شرعی نہیں دی گئی۔میں کہتا ہوں 1973 ء کی ترمیم بھی شرعاً جائز ہے۔دستور کی ہر بات نص شرعی نہ بھی ہو تو اسلام نے ان کو مرتد قرار دیا ہے۔رفاعی صاحب نے یہ بھی کہا کہ سائلین نے میثاق مدینہ کا سہارا لیا ہے۔اس وقت اسلامی نظام قائم نہیں ہوا تھا۔معاہدہ میں دو فریق تھے ان میں مرتد اور منکر ختم نبوت کوئی شامل نہیں تھا۔یہودیوں کے ساتھ معاملات کرنے کی بات بلا جواز ہے۔انہوں نے کہا کہ درخواست میں آیات قرآنی کی بھر مار کی گئی ہے جس کا کوئی مطلب نہیں۔علماء میں سے ایک صاحب مولوی محمد اشرف صاحب بطور مشیر پیش ہوئے اور انہوں نے یہ بحث کی کہ احمدیوں کو اذان سے روکنا صحیح اقدام اس لئے ہے کہ اذان مسلمانوں کا شعار ہے اور اسلام کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔انہوں نے فقہ کی کتابوں سے مفصل حوالے دیئے جس پر چیف جسٹس نے انہیں روکا اور کہا۔چیف جسٹس یہ بات تو petitioner کے دلائل سے بھی ثابت ہے جہاں تک اذان 39