امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 37 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 37

بڑے صبر سے تین دن تک سنتا رہا تھا اور طبیعت میں ایک جوش تھا۔خاکسار نے فوراً کہا کہ میں اب بھی چند منٹ ہلکی سی گفتگو کرنے کو تیار ہوں۔اور پھر میں نے ایک لطیفہ سے بات کا آغاز کیا کہ ایک زمیندار چوہدری ایک مراثی کے ساتھ سفر پر نکلا، چوہدری نے مراثی سے کہا کہ میرے برابر نہ بیٹھنا۔پہلی جگہ گئے تو لوگ چار پائیوں پر تھے۔مراثی نے ادھر ادھر بھاگ کر کوئی پیڑھا ڈھونڈ لیا۔آگے لوگ پیڑھوں پر تھے۔مراثی نے چھوٹی پیڑھی ڈھونڈ لی۔آگے گئے تو لوگ زمین پر تھے۔مراثی اِدھر اُدھر بھاگنے لگا۔پوچھنے پر بتایا کہ کسی ڈھونڈ رہا ہوں تا کہ زمین کھود کر گڑھے میں بیٹھ سکوں۔جناب! میں تو گزشتہ تین دن سے کسی ہی ڈھونڈتا رہا ہوں۔اس لطیفہ سے ماحول کافی ہلکا ، شگفتہ اور نرم گوشہ پیدا ہوا۔پچھلے دودن کی بحث اس لحاظ سے بہت بوجھل تھی کہ اس بحث کے دوران رحمۃ للعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ہاتھوں تلوار اور خون بہانے کا ہی ذکر ہوتا رہا۔میں علی وجہ البصیرت اس بات پر قائم ہوں کہ میں ذمی نہیں ہوں اور نہ ذمیوں کے حقوق مانگتا ہوں۔مجھے خدا اور اس کے رسول کا ذمہ ہی کافی ہے۔اس ملک کی حفاظت میں ہمارا خون کم نہیں بہا۔باقی بحث تو میں بعد میں کروں گا اس وقت اتنی توجہ دلاؤں کہ میں نے اپنی ساری بحث کو قرآن وسنت تک محدود رکھا لیکن عدالت کے فاضل مشیران نے فقہاء کے نظریات بیان کرنے پر وقت صرف کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی مثال چھوڑ کر فقہاء کوسند مانا گیا۔غرض پندرہ منٹ کی بحث میں ان کے تمام دلائل پر سرسری تبصرہ کیا۔خاکسار کے اس بیان پر ہمارے ایک ساتھی نے یوں تبصرہ کیا کہ :۔مجیب صاحب کی آخری چودہ منٹ کی تقریر سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ چودہ منٹ میں چودہ صدیوں کا سفر طے کر کے عقل و خرد کو قرآن وسنت کے تابع موجودہ زمانے کے تقاضے پورا کرنے کی طرف دعوت فکر دے رہے ہیں۔پچھلے تین دن کا سارا غبار مجیب 37