امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 34 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 34

نہیں رکھیں گے۔اپنی صلیب اور اپنی کتاب کو مسلمانوں کے ساتھ نہیں ملائیں گے۔اپنی نمازوں میں آواز بلند نہیں کریں گے۔اور اسلامی ریاست میں اہل ذمہ کے ساتھ تعظیم واکرام کا سلوک نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسا سلوک کیا جائے گا کہ ان کو اپنی پستی اور کمتری کا احساس ہو۔جسٹس فخر عالم یہ باتیں جو آپ کر رہے ہیں اس سے آپ بحیثیت قوم دنیا کا سامنا : کر سکتے ہیں۔انٹر نیشنل سطح پر دوسری قوموں سے بات کر سکتے ہیں۔دوسرے ممالک میں جو لاکھوں مسلمان بستے ہیں ان کے ساتھ بھی اگر وہاں کی حکومتیں ایسا ہی دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کریں تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا۔آپ کے بین الاقوامی تعلقات کیا برقرارر ہیں گے؟۔قاضی مجیب الرحمن : میں تو شریعت کی بات کر رہا ہوں مجھے اور کسی بات سے غرض نہیں ہے۔آرڈینینس کے بارہ میں قاضی مجیب الرحمن نے صرف اتنا کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اس میں غیر مسلم ان اصطلاحات کو استعمال نہیں کر سکتے۔پروفیسر غازی نے ایک بحث یہ اُٹھائی کہ قرآن وسنت کے علاوہ سر براہ مملکت کو قانون بنانے کا اختیار چار صورتوں میں ہے۔(i) مصلحت وقت (ii) دفع ضرر (ii) ست ذریعہ (iv) فتح ذریعہ جسٹس قاسمی: یہ چار اصول آپ نے کس کتاب سے مستنبط کئے ہیں؟۔پروفیسر غازی: جناب یہ میں نے مختلف کتابوں سے اخذ کر کے یکجابیان کر دیئے ہے ف جسٹس مستصطفی نے سد ذرائع کے بارہ میں بہت سی مثالیں لکھی ہیں۔لیکن زیر بحث موجودہ موضوع کے بارہ میں ست ذریعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔محمود غازی نے اہل ذمہ کا ذکر کرتے ہوئے کہ اہل شام سے سخت معاہدہ کیا گیا۔ان پر 34