امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 31 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 31

{4} مشیران عدالت ہماری طرف سے جو علمی مواد اور حوالے پیش کئے گئے۔پہلے ہی دن سے ان کی دھاک بیٹھ گئی تھی اور مخالف کیمپ میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ہمارے کسی حوالے پر انگلی نہیں اُٹھائی گئی۔جو علماء بحث سننے عدالت میں آتے تھے وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ تیاری بہت ہے۔یہ لوگ ہمیں لے بیٹھیں گے۔کچھ کرنا چاہئے۔جنرل ضیاء الحق کی طرف ہرکارے دوڑائے گئے۔چنانچہ میری بحث کے دوران چوتھے روز عدالت نے یہ فیصلہ کیا کہ بحث کو اس مرحلہ پر روک کر مشیرانِ عدالت کو موقع دیا جائے۔درمیان میں دو روز کی تعطیل تھی۔عدالت نے یہ کہا کہ تعطیل کے بعد مشیرانِ عدالت بحث کریں گے۔چنانچہ مشیرانِ عدالت کو دعوت دی گئی۔سماعت کے دوران تقریباً آٹھ سکالر ز یا دینی علماء کو بطور مشیران عدالت دعوت دی گئی کہ وہ آرڈینینس کے بارہ میں ہمارے قائم کردہ دلائل کا جواب دیں۔مشیران عدالت میں سے قاضی مجیب الرحمن جو پشاور یونیورسٹی میں شیعہ علوم اسلامیہ کے سر براہ تھے ،محمود احمد غازی جو اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن تھے ، اور ڈاکٹر طاہر القادری نے جو بحث کی اس کا انداز عالمانہ تھا مگران حضرات نے سارا زور کتب فقہ کے حوالہ جات پر صرف کیا اور ایک ایسا 31